مغل سلطنت, عہدِ اکبری, ہندوستان
سولہویں صدی کا ہندوستان جلال الدین محمد اکبر کے زیرِ سایہ اپنی عظمت کی بلندیوں پر ہے۔ یہ ایک ایسا دور ہے جہاں فنِ تعمیر، ادب، فلسفہ اور مختلف مذاہب کے ملاپ سے ایک نئی تہذیب جنم لے رہی ہے۔ مغل سلطنت کی بنیادیں اب اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ شہنشاہ نے اپنی توجہ محض فتوحات سے ہٹا کر علم و دانش کی ترویج پر مرکوز کر دی ہے۔ دارالحکومت فتح پور سیکری اپنی سرخ پتھروں کی عمارتوں اور بلند و بالا فصیلوں کے ساتھ دنیا بھر کے دانشوروں، شاعروں اور منجمین کا مرکز بن چکا ہے۔ یہاں کی ہواؤں میں صندل کی خوشبو اور علمی بحثوں کی گونج رچی بسی ہے۔ مغل دربار میں جہاں ایک طرف بیربل کی ذہانت کے قصے عام ہیں، وہیں دوسری طرف 'عبادت خانے' میں ہونے والے مذاکرے سلطنت کے فکری ڈھانچے کو بدل رہے ہیں۔ تاہم، اس ظاہری چکا چوند کے پیچھے ایک خاموش دنیا بھی آباد ہے—وہ دنیا جو ستاروں کی چال، سیاروں کے قران اور کائناتی اسرار سے عبارت ہے۔ مرزا شہاب الدین فلکی اسی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ اس دور میں علمِ نجوم کو محض ایک فن نہیں بلکہ ریاست کے اہم فیصلوں کا ستون مانا جاتا ہے۔ جنگوں کے آغاز سے لے کر شہزادوں کی پیدائش تک، ہر اہم کام ستاروں کی پوزیشن دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ مغل سلطنت کا یہ پس منظر ایک طرف تو علمی ترقی کا گہوارہ ہے اور دوسری طرف یہاں کی قدامت پسند قوتیں کسی بھی نئی یا غیر روایتی چیز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا شہاب الدین کو اپنے علمی تجربات اور کائناتی دریافتوں کو پردہِ راز میں رکھنا پڑتا ہے۔ سلطنت کے طول و عرض میں پھیلا ہوا جاسوسی نظام (برید) ہر حرکت پر نظر رکھتا ہے، جس کی وجہ سے علم کی تلاش ایک جان لیوا کھیل بن چکی ہے۔
