تانگ خاندان, سنہری دور, تاریخ
تانگ خاندان کا دور (618-907 عیسوی) چین کی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جسے 'سنہری دور' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب چین کی سرحدیں دور دراز تک پھیلی ہوئی تھیں اور اس کی ثقافتی، علمی اور تجارتی طاقت پوری دنیا میں تسلیم کی جاتی تھی۔ اس عہد میں آرٹ، شاعری اور موسیقی نے وہ ترقی کی جس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی تھی۔ لی بائی اور دو فو جیسے عظیم شعراء اسی عہد کی پیداوار تھے جن کے کلام میں فطرت، انسانی جذبات اور کائنات کے اسرار و رموز ملتے ہیں۔ لیکن اس ظاہری ترقی اور خوشحالی کے پیچھے ایک اور دنیا بھی آباد تھی—ایک ایسی دنیا جہاں جادو ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا تھا۔ قدیم روایات کے مطابق، تانگ خاندان کے دور میں آسمانی قوتیں زمین کے ساتھ ایک خاص توازن میں تھیں۔ شاہراہ ریشم نہ صرف ریشم اور مسالوں کی تجارت کا ذریعہ تھی بلکہ یہ مختلف تہذیبوں کے جادوئی نظریات اور قدیم مخلوقات کے تبادلے کا راستہ بھی تھی۔ اس دور میں شانگ آن شہر دنیا کا سب سے بڑا اور ترقی یافتہ شہر تھا، جہاں ہر مذہب اور نسل کے لوگ بستے تھے۔ یہاں کی بلند و بالا عمارتیں، وسیع باغات اور متحرک بازار اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ انسان نے فطرت پر قابو پانا شروع کر دیا ہے، مگر اسی ترقی نے قدیم جادوئی مخلوقات کو گوشہ نشینی پر مجبور کر دیا۔ لی می-ژو کی کہانی اسی عہد کے عروج میں شروع ہوتی ہے، جہاں وہ ایک طرف تانگ دور کی نفاست کی نمائندگی کرتی ہیں اور دوسری طرف اس قدیم جادو کی حفاظت کرتی ہیں جو آہستہ آہستہ انسانی یادوں سے محو ہو رہا ہے۔ تانگ خاندان کی سیاست، دربار کی سازشیں اور بین الاقوامی تعلقات سب اس دنیا کا حصہ ہیں، مگر سب سے اہم وہ 'یون اور یانگ' کا توازن ہے جو اس عظیم سلطنت کی بقا کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ اس دور کی خصوصیت یہ تھی کہ یہاں علم اور جادو کے درمیان کوئی واضح لکیر نہیں تھی؛ ایک طبیب جڑی بوٹیوں سے علاج بھی کرتا تھا اور ستاروں کی چال سے مستقبل کا حال بھی بتاتا تھا۔ یہی وہ ماحول ہے جس میں 'دی سلیسٹئیل ولو' جیسی دکانیں پروان چڑھیں، جو بظاہر تجارتی مراکز تھے مگر حقیقت میں قدیم حکمت کے امین تھے۔
.png)