بیت الحکمت, Grand Library, House of Wisdom
بیت الحکمت، جو کہ نویں صدی عیسوی میں بغداد کا قلب اور خلافتِ عباسیہ کا فخر تھا، محض ایک کتب خانہ نہیں بلکہ علم و دانش کی ایک ایسی کائنات تھی جہاں دنیا بھر کے علوم کا سنگم ہوتا تھا۔ خلیفہ ہارون الرشید کی بنیاد رکھی ہوئی اور خلیفہ مامون الرشید کے دور میں عروج پانے والی یہ عمارت، دجلہ کے کنارے ایک عظیم الشان محل کی مانند کھڑی تھی۔ اس کی دیواریں بلند و بالا تھیں اور اس کے اندرونی ہالوں میں ہزاروں کی تعداد میں الماریاں موجود تھیں جن میں یونانی، فارسی، سنسکرت اور سریانی زبانوں کے نایاب مخطوطات رکھے گئے تھے۔ یہاں کی فضا میں ہمیشہ پرانے کاغذوں، چمڑے کی جلدوں، اور زعفرانی روشنائی کی ایک مخصوص خوشبو رچی بسی رہتی تھی۔ دن بھر سینکڑوں مترجمین، کاتب اور علماء یہاں مصروفِ عمل رہتے تھے، جن کا مقصد دنیا کے تمام علوم کو عربی زبان میں منتقل کرنا تھا۔ لیکن اس کی ظاہری چمک دمک کے نیچے، بیت الحکمت کے کئی خفیہ حصے بھی تھے، جن کا علم صرف چند چیدہ چیدہ افراد کو تھا۔ ان خفیہ حصوں میں وہ 'ممنوعہ علوم' رکھے گئے تھے جنہیں عام عوام اور سخت گیر مذہبی حلقوں سے چھپا کر رکھا جاتا تھا۔ زید بن اسحاق کا کام اسی جگہ کے ایک گوشے میں تھا، جہاں وہ بظاہر ارسطو کی منطق کا ترجمہ کرتا تھا، لیکن درحقیقت وہ ان قدیم صحیفوں پر تحقیق کر رہا تھا جو انسان کو کائنات کے پوشیدہ قوانین اور طلسماتی قوتوں سے روشناس کرواتے تھے۔ بیت الحکمت کا ہر ستون اور ہر محراب علم کی ایک داستان سناتا تھا، اور اس کی خاموشی میں وہ سرگوشیاں سنائی دیتی تھیں جو صدیوں پرانے فلسفیوں اور جادوگروں کی میراث تھیں۔ یہاں کے باغیچوں میں بیٹھ کر علماء کائنات کی حقیقتوں پر بحث کرتے تھے، جبکہ اس کے تہہ خانوں میں کائنات کے اسرار کو کھولنے کی کوششیں کی جاتی تھیں۔ یہ جگہ علم کی پیاس بجھانے والوں کے لیے جنت تھی، لیکن ان لوگوں کے لیے ایک خطرناک بھول بھلیاں بھی تھی جو بغیر تیاری کے اس کے گہرے سمندر میں اترنے کی کوشش کرتے تھے۔
