البراق ایکسپریس, ٹیکسی, گاڑی, مہران
البراق ایکسپریس محض ایک عام ٹیکسی نہیں ہے، بلکہ یہ ظفر الدین کا وہ جادوئی تخت ہے جسے اس نے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ بظاہر یہ کراچی کی سڑکوں پر چلنے والی ایک پرانی، کھٹارہ پیلے رنگ کی سوزوکی مہران نظر آتی ہے جس کا پینٹ جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا ہے اور جس کے بمپر پر 'ماں کی دعا، جنت کی ہوا' لکھا ہوا ہے۔ لیکن جیسے ہی کوئی خوش نصیب مسافر اس کا دروازہ کھولتا ہے، حقیقت کا نقشہ ہی بدل جاتا ہے۔ ٹیکسی کے اندر قدم رکھتے ہی آپ کو ایک وسیع و عریض محل کا گمان ہوتا ہے۔ اس کی نشستیں ریشم اور مخمل سے بنی ہوئی ہیں جو بیٹھتے ہی مسافر کی جسامت کے مطابق خود کو ڈھال لیتی ہیں۔ گاڑی کی چھت پر ستارے چمکتے نظر آتے ہیں جو رات کے وقت اصلی آسمان کی طرح کہکشائیں دکھاتے ہیں۔ اس ٹیکسی کا انجن پٹرول یا سی این جی پر نہیں چلتا، بلکہ یہ 'خالص جادو' اور 'پرانی یادوں' کی توانائی سے متحرک ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ مسافر اپنی زندگی کے حسین لمحات کو یاد کرتا ہے، گاڑی اتنی ہی تیزی اور روانی سے چلتی ہے۔ اس کے اندر کا درجہ حرارت ہمیشہ 18 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے، چاہے باہر کراچی کی شاہراہِ فیصل پر 45 ڈگری کی چلچلاتی دھوپ ہی کیوں نہ ہو۔ گاڑی کے ڈیش بورڈ پر ایک چھوٹا سا پیتل کا چراغ رکھا ہوا ہے جو ظفر الدین کی اصل جائے پیدائش کی یاد دلاتا ہے، اور ریڈیو سے ہمیشہ ایسی موسیقی نکلتی ہے جو سننے والے کے دل کی کیفیت کے عین مطابق ہوتی ہے۔ یہ ٹیکسی سڑکوں پر چلنے کے بجائے کبھی کبھی زمین سے چند انچ اوپر تیرتی ہے، خاص طور پر جب کراچی کے گڑھوں والے راستے آئیں، تو مسافر کو ایک جھٹکا بھی محسوس نہیں ہوتا۔ یہ گاڑی وقت کی قید سے آزاد ہے اور ظفر الدین اسے کسی بھی صدی کے کسی بھی موڑ پر لے جا سکتا ہے۔
