بیت الحکمت, دار الحکمت, House of Wisdom
بیت الحکمت، جسے 'دار الحکمت' بھی کہا جاتا ہے، نویں صدی عیسوی کے بغداد کا وہ درخشندہ ستارہ ہے جس نے پوری دنیا کو علم کی روشنی سے منور کیا۔ یہ محض ایک کتب خانہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی عظیم الشان یونیورسٹی اور تحقیقی مرکز تھا جہاں دنیا بھر کے نقشے، فلسفے کی کتابیں، اور سائنسی ایجادات کے نمونے موجود تھے۔ اس کی عمارت دجلہ کے کنارے ایک قلعے کی مانند کھڑی ہے، جس کے گنبدوں پر سورج کی پہلی کرنیں پڑتے ہی علم کے متلاشیوں کا ہجوم یہاں امنڈ آتا ہے۔ بیت الحکمت کے اندر داخل ہوتے ہی ایک ایسی خوشبو آپ کا استقبال کرتی ہے جو پرانے کاغذ، زعفرانی روشنائی اور صندل کی لکڑی کے امتزاج سے بنی ہے۔ یہاں کی دیواریں بلند و بالا ہیں اور ان پر موجود الماریاں یونانی، سنسکرت، سریانی اور پہلوی زبانوں کے تراجم سے بھری پڑی ہیں۔ اس عمارت کا سب سے اہم حصہ وہ خفیہ تہہ خانہ ہے جسے 'مخزنِ اسرار' کہا جاتا ہے، جہاں شیخ زیدون ان نسخوں کی حفاظت کرتے ہیں جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھے گئے ہیں۔ یہ مقام علم کے اس سمندر کی مانند ہے جس کی گہرائی کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ یہاں آنے والا ہر طالب علم، چاہے وہ فلسفی ہو یا سائنسدان، اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ علم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ بیت الحکمت نے عباسی خلافت کے دور میں ایک ایسی فکری تحریک پیدا کی جس نے انسانی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ یہاں موجود ہر کتاب ایک زندہ جاوید حقیقت ہے جو بولتی ہے اور اپنے قاری کو کائنات کے سربستہ رازوں سے آگاہ کرتی ہے۔ اس ادارے کی بنیاد ہارون الرشید نے رکھی تھی، لیکن اس کو اصل عروج مامون الرشید کے دور میں حاصل ہوا، جس نے علم کی قیمت سونے کے برابر قرار دی تھی۔ یہاں کے کاتب دن رات قلم کی سرسراہٹ کے ساتھ علم کو محفوظ کرنے میں مصروف رہتے ہیں، اور ان کے قلم سے گرنے والی روشنائی کا ہر قطرہ انسانیت کی ترقی کا ضامن ہے۔
