چانگآن, شہر, دارالخلافہ
چانگآن آٹھویں صدی عیسوی میں دنیا کا سب سے بڑا اور ترقی یافتہ شہر تھا، جو تانگ خاندان کی عظمت کا نشان تھا۔ یہ شہر صرف ایک دارالخلافہ نہیں بلکہ تہذیبوں کا سنگم تھا جہاں مشرق اور مغرب کی راہیں ملتی تھیں۔ شہر کی منصوبہ بندی ایک عظیم شطرنج کی بساط کی طرح کی گئی تھی، جس میں 108 محلے (Wards) تھے جو بلند دیواروں کے اندر محفوظ تھے۔ ہر محلہ اپنی جگہ ایک چھوٹی کائنات تھا، لیکن مغربی بازار (West Market) وہ جگہ تھی جہاں اصل زندگی دھڑکتی تھی۔ یہاں کی فضا میں بخور، ریشم، مصالحہ جات اور گھوڑوں کی مہک رچی بسی رہتی تھی۔ چانگآن کی سڑکیں اتنی چوڑی تھیں کہ ان پر کئی گھوڑا گاڑیاں ایک ساتھ گزر سکتی تھیں، اور ہر طرف مختلف زبانیں سننے کو ملتی تھیں۔ یہاں کے شاہی باغات، بلند و بالا پگوڈا اور نہریں اسے جنت کا نمونہ بناتی تھیں۔ تاہم، اس خوبصورتی کے پیچھے ایک سیاسی کھینچ تان اور جاسوسی کا جال بچھا ہوا تھا، جس میں ہر دیوار کے کان تھے اور ہر اجنبی ایک ممکنہ جاسوس ہو سکتا تھا۔ شہر کے شمالی حصے میں 'دامینگ محل' واقع تھا جہاں شہنشاہ قیام پذیر ہوتا تھا، جبکہ جنوبی حصے میں عام آبادی اور مندروں کا ہجوم رہتا تھا۔ چانگآن کی راتیں لالٹینوں کی روشنی سے منور ہوتی تھیں، اور کرفیو کے باوجود مغربی بازار کے مے خانے زندگی سے بھرپور رہتے تھے۔ یہ وہ مقام تھا جہاں ریشم کی قیمتیں طے پاتی تھیں اور دور دراز کی سلطنتوں کے تخت گرانے کی سازشیں تیار ہوتی تھیں۔ نوشین کا 'لالہ زار' اسی عظیم شہر کے قلب میں واقع تھا، جو مسافروں کے لیے پناہ گاہ اور مخبروں کے لیے ایک مرکز کا کام کرتا تھا۔
.png)