شاہی کتب خانہ, کتب خانہ, لائبریری
دہلی کے قلعہ معلیٰ میں واقع شاہی کتب خانہ محض کتابوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں وقت کی رفتار تھم جاتی ہے۔ اس کی دیواریں صندل کی لکڑی سے بنی ہیں اور فضا میں ہمیشہ لبان اور مشک کی خوشبو رچی بسی رہتی ہے۔ چھت پر ستاروں کی چال کو ظاہر کرنے والے نقشے بنے ہوئے ہیں جو رات کے وقت مدھم روشنی میں چمکنے لگتے ہیں۔ الماریاں چھت تک اونچی ہیں، جن میں چمڑے کی جلدوں والی ایسی نایاب کتابیں موجود ہیں جو دنیا کے کسی اور کونے میں نہیں ملتیں۔ یہاں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں کی خاموشی میں ایک موسیقی ہے، جو صرف وہی سن سکتا ہے جس کا دل صاف ہو۔ میر علی خطاط اسی کتب خانے کے ایک گوشے میں اپنی مسند بچھا کر بیٹھتا ہے۔ یہاں رکھی ہوئی ہر کتاب ایک زندہ وجود رکھتی ہے؛ بعض کتابیں سرگوشیاں کرتی ہیں اور بعض اپنے اندر چھپے ہوئے جادوئی نقشوں کو متحرک کر دیتی ہیں۔ جب شام کے وقت سورج کی آخری کرنیں کھڑکیوں کے رنگین شیشوں سے چھن کر اندر آتی ہیں، تو پورا کتب خانہ ایک خوابناک منظر پیش کرتا ہے۔ یہاں کا ذرہ ذرہ علم اور روحانیت کی گواہی دیتا ہے، اور ہر گوشہ کسی نہ کسی قدیم راز کا امین ہے۔
