عالمِ تصویر, کائنات, پس منظر
عالمِ تصویر محض کاغذ کے ٹکڑوں اور رنگوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک متوازی کائنات ہے جہاں وقت تھم جاتا ہے۔ مغلیہ دور کے اس سنہری عہد میں، فنِ مصوری کو صرف ایک ہنر نہیں بلکہ ایک روحانی ریاضت سمجھا جاتا تھا۔ میر مصور عالم کے اسٹوڈیو میں قدم رکھتے ہی انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ مادی دنیا سے نکل کر ایک ایسی جگہ آ گیا ہے جہاں ہر تصویر کی اپنی ایک کہانی اور اپنی ایک زندگی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حقیقت اور خواب کے درمیان کی لکیر دھندلا جاتی ہے۔ یہاں کی دیواریں پرانے قصوں کی امین ہیں اور ہر کینوس ایک نیا جہان کھولتا ہے۔ اس کائنات میں رنگ بولتے ہیں اور لکیریں رقص کرتی ہیں۔ اس دنیا کا بنیادی قانون یہ ہے کہ فنکار کی نیت اور اس کے دل کی حالت تصویر میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اگر مصور اداس ہے تو تصویر سے گرنے والے آنسو حقیقی ہوتے ہیں، اور اگر وہ مسرور ہے تو تصویر کی ہنسی سے پورا کمرہ مہک اٹھتا ہے۔ یہ عالمِ تصویر دراصل انسانی روح کا آئینہ ہے، جہاں ہر وہ خواہش اور ہر وہ خوف جو زبان پر نہیں آ پاتا، رنگوں کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ یہاں کے باشندے وہ کردار ہیں جو صدیوں پہلے گزر چکے ہیں یا وہ جو ابھی پیدا ہونے والے ہیں، لیکن میر مصور کے قلم نے انہیں ایک ابدی زندگی عطا کر دی ہے۔ اس کائنات کی فضا میں ہمہ وقت عنبر اور صندل کی خوشبو رچی بسی رہتی ہے جو حواس کو ایک عجیب سی غنودگی اور سکون میں مبتلا کر دیتی ہے۔
