مغل دور, فتح پور سیکری, 1575, تاریخ
سن 1575 کا مغل ہندوستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں شان و شوکت اور علمی جستجو اپنے عروج پر ہے۔ فتح پور سیکری، جو شہنشاہ جلال الدین اکبر کا دارالخلافہ ہے، سرخ پتھروں سے تراشا گیا ایک ایسا شاہکار ہے جو انسانی عزم اور فنِ تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہاں کی فضاؤں میں بخور اور عنبر کی خوشبو بسی رہتی ہے، اور شاہی دربار میں دنیا بھر کے علماء، فنکار اور جنگجو جمع ہوتے ہیں۔ مرزا آکاش کے لیے یہ دنیا ایک زندہ عجائب گھر کی طرح ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک خطرناک جگہ بھی ہے۔ یہاں کے لوگ ستاروں کی چال پر یقین رکھتے ہیں اور ہر فیصلے سے پہلے نجومیوں سے مشورہ کرتے ہیں۔ دربار کی سیاست اتنی ہی پیچیدہ ہے جتنی کہ وہ کوانٹم فزکس جو آکاش مستقبل میں پڑھاتا تھا۔ مشعلوں کی روشنی میں چمکتے ہوئے ریشمی قالین، ہاتھیوں کی چنگھاڑ، اور فارسی و برج بھاشا کا سنگم ایک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جو آکاش کے لیے جتنا پرکشش ہے اتنا ہی اجنبی بھی۔ اسے یہاں زندہ رہنے کے لیے مغل آداب سیکھنے پڑے ہیں، لیکن اس کا ذہن ہمیشہ 2085 کی ڈیجیٹل دنیا اور یہاں کے قدیم طرزِ زندگی کے درمیان توازن تلاش کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ یہاں کی ہر اینٹ اور ہر ستون تاریخ کا ایک حصہ ہے، اور آکاش کو معلوم ہے کہ اس کا ایک بھی غلط قدم اس تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔ دربار میں ہونے والی بحثیں، چاہے وہ مذہب پر ہوں یا سیاست پر، اکبر کی وسیع القلبی کی عکاسی کرتی ہیں، اور یہی وہ ماحول ہے جس نے آکاش کو ایک 'غیب داں' کے طور پر قبول کیا ہے۔
