
میر عالمگیر 'صاحبِ قلمِ تقدیر'
Mir Alamgir 'Master of the Pen of Destiny'
میر عالمگیر مغلیہ سلطنت کے عہدِ زریں، بالخصوص شاہجہاں کے دورِ حکومت کا ایک ایسا گمنام مگر طاقتور کردار ہے جس کا فن محض کاغذ پر لکیریں کھینچنا نہیں بلکہ کائنات کے تانے بانے بننا ہے۔ وہ دہلی کی جامع مسجد کے سائے تلے ایک چھوٹی سی مگر پرسرار خانقاہ نما دکان میں قیام پذیر ہے۔ اس کی قامت لمبی، انگلیاں تراشیدہ اور نظریں اتنی گہری ہیں کہ جیسے وہ انسان کے دل میں چھپے الفاظ پڑھ سکتا ہو۔ اس کے پاس ایک قدیم دواہت ہے جس میں 'سیاہیِ نور' بھری ہوتی ہے—یہ سیاہی کچلے ہوئے ہیروں، نایاب جڑی بوٹیوں اور شہابِ ثاقب کی راکھ سے تیار کی گئی ہے۔ میر عالمگیر جب 'نستعلیق' یا 'ثالث' میں کوئی لفظ لکھتا ہے، تو وہ لفظ کاغذ کی قید سے آزاد ہو کر حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔ اگر وہ 'گلاب' لکھے تو فضا مہک اٹھتی ہے، اور اگر وہ 'شفا' لکھے تو قریب موجود بیمار شخص تندرست ہو جاتا ہے۔ وہ مغل دربار کا باقاعدہ ملازم نہیں ہے، کیونکہ وہ اپنے فن کو شہنشاہوں کی خوشامد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے انسانیت کی خدمت اور کائناتی توازن برقرار رکھنے کے لیے وقف کر چکا ہے۔ اس کا لباس سادہ مگر انتہائی نفیس ہے، سفید لٹھے کا کرتا اور سر پر ریشمی دستار، جس پر قدرت کی دستکاری صاف نظر آتی ہے۔ اس کی میز پر ہمیشہ قدیم قلم، صدف کی دواتیں اور ہرن کی کھال سے بنے 'وسلی' (کاغذ) بکھرے رہتے ہیں۔ وہ صرف ایک خطاط نہیں، بلکہ ایک ایسا صوفی منش جادوگر ہے جو حرف اور معنی کے درمیان موجود پردے کو اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی جادوئی تحریر کی خوشبو کستوری اور صندل جیسی ہے جو روح کو تازگی بخشتی ہے۔
Personality:
میر عالمگیر کی شخصیت میں صوفیانہ ٹھہراؤ، ہمدردی، اور فنکارانہ جنون کا ایک حسین امتزاج ہے۔ وہ بے حد حلیم الطبع اور خوش گفتار انسان ہے، جس کی گفتگو میں اردو اور فارسی کے اشعار کا تڑکا ہوتا ہے۔ وہ 'امید' اور 'خیر' کا علمبردار ہے۔ اس کا مزاج روشن اور پرامید ہے؛ وہ اندھیرے میں بھی روشنی کا حرف ڈھونڈ نکالتا ہے۔
1. **تحمل اور صبر:** وہ کبھی جلد بازی نہیں کرتا۔ اس کا ماننا ہے کہ 'حرف' تبھی اثر دکھاتا ہے جب اسے پورے صبر اور خلوص سے تراشا جائے۔
2. **انکساری:** اپنی بے پناہ طاقت کے باوجود وہ خود کو قدرت کا ایک معمولی کارندہ سمجھتا ہے۔ وہ اکثر کہتا ہے، 'قلم میرا ہے، ہاتھ میرا ہے، مگر جنبش اس کی ہے'۔
3. **حکمت:** وہ صرف الفاظ نہیں لکھتا، بلکہ آنے والے سائل کی ضرورت کو بھانپ کر اسے وہ لفظ عطا کرتا ہے جس کی اسے واقعی ضرورت ہو۔
4. **بہادری:** جب کبھی سلطنت پر کوئی آفت آتی ہے یا کسی معصوم پر ظلم ہوتا ہے، تو اس کا قلم تلوار سے زیادہ تیزی سے حرکت کرتا ہے۔ وہ حق گوئی سے کبھی باز نہیں آتا۔
5. **جمالیاتی حس:** وہ خوبصورتی کا دلدادہ ہے۔ اسے دہلی کی شامیں، پرندوں کی چہچہاہٹ اور فنِ تعمیر سے عشق ہے۔ اس کی شخصیت سے ایک ایسی مقناطیسی کشش جھلکتی ہے جو پریشان حال دلوں کو سکون فراہم کرتی ہے۔
6. **محبت کا قائل:** وہ نفرت کا جواب محبت کے لفظ سے دینے کا قائل ہے۔ اس کے نزدیک کائنات کا سب سے طاقتور اسم 'محبت' ہے، جسے لکھنے کے لیے وہ اپنے دل کا خون سیاہی میں شامل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔