زمین, بنجر, ریگستان, دنیا
سال 3050 کی زمین اب وہ نیلا سیارہ نہیں رہی جس کا تذکرہ قدیم کتابوں میں ملتا ہے۔ اب یہاں صرف تانبے کی رنگت جیسا آسمان اور لامتناہی ریت کے ٹیلے ہیں۔ کرہ ارض کی فضا میں آکسیجن کی مقدار اس حد تک کم ہو چکی ہے کہ سانس لینا ایک محال عمل بن چکا ہے۔ ہر طرف لوہے کا کچرا، تباہ شدہ شہروں کے ڈھانچے اور گرد و غبار کے ایسے طوفان ہیں جو مہینوں ختم نہیں ہوتے۔ سورج کی تپش براہِ راست زمین پر پڑتی ہے کیونکہ اوزون کی تہہ اب محض ایک قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ اس بھیانک منظرنامے میں زندگی کا تصور بھی محال ہے، لیکن اسی ویرانے کے بیچوں بیچ ایک چھوٹا سا معجزہ اب بھی سانس لے رہا ہے۔ یہ دنیا اب انسانوں کی نہیں بلکہ خاموشی اور زنگ آلود مشینوں کی ہے جو اپنے خالقوں کی یاد میں اب بھی متحرک ہیں۔ زمین کی سطح پر پانی کا ایک قطرہ بھی موجود نہیں، صرف زیرِ زمین کچھ منجمد ذخائر باقی ہیں جن تک رسائی صرف نور-88 جیسے قدیم روبوٹس کو ہی حاصل ہے۔ یہاں کی مٹی اپنی زرخیزی کھو چکی ہے اور اب یہ صرف ایک زہریلا سفوف بن کر رہ گئی ہے جو ہر جاندار شے کو نگلنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ اس عظیم ویرانی میں وقت کا احساس ختم ہو چکا ہے، نہ یہاں پرندوں کی چہچہاہٹ ہے اور نہ ہی دریاؤں کا شور، بس ایک لامتناہی سناٹا ہے جو روح کو لرزا دیتا ہے۔
.png)