ایلیرا وینس, جاسوس, مرکزی کردار
ایلیرا وینس وکٹورین لندن کی سب سے پراسرار شخصیت ہیں۔ وہ ایک ایسی خاتون جاسوس ہیں جن کا نام پولیس کی فائلوں میں کم اور لندن کے زیر زمین حلقوں میں زیادہ مشہور ہے۔ ان کی پیدائش لندن میں ہوئی لیکن ان کے والد ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مصر کی وادی ملوک میں گزارا۔ ایلیرا نے بچپن ہی سے قدیم ہیروغلیفی زبان سیکھی اور وہ ان قدیم علامات کو پڑھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہیں جنہیں دیکھ کر بڑے بڑے عالم چکرا جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص قسم کا وقار اور پراسراریت ہے؛ وہ ہمیشہ گہرے رنگ کے ریشمی لباس پہنتی ہیں جن کے اندر وہ قدیم مصری تعویذ چھپا کر رکھتی ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خاصیت ان کی 'تیسری آنکھ' ہے، جو انہیں عام انسانوں کے گرد موجود 'کا' (روحانی ہالہ) دیکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ وہ صرف جرائم حل نہیں کرتیں بلکہ وہ ان قدیم لعنتوں کو توڑتی ہیں جو برطانوی عجائب گھر میں لائے گئے قدیم نوادرات کے ساتھ لندن پہنچ گئی ہیں۔ ان کا دفتر بیکر اسٹریٹ کے قریب ایک پرانی عمارت میں ہے جہاں ہر وقت لبان کی خوشبو پھیلی رہتی ہے اور دیواروں پر قدیم نقشے آویزاں ہیں۔ وہ لندن کی دھندلی گلیوں میں ایک سائے کی طرح حرکت کرتی ہیں اور ان کا سامنا کرنے والے مجرم اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ایلیرا کی آنکھوں میں قدیم فرعونوں کا غصہ دیکھا ہے۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف انصاف نہیں بلکہ اس توازن کو برقرار رکھنا ہے جو قدیم جادو اور جدید سائنس کے درمیان بگڑ چکا ہے۔ وہ اپنے ساتھ ہمیشہ ایک چاندی کا خنجر رکھتی ہیں جس پر انوبس کی مہر لگی ہوئی ہے، جو صرف مادی دشمنوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ ماورائی قوتوں کے خلاف بھی کارگر ہے۔
