لندن, وکٹورین, دھند
سال 1888 کا لندن ایک ایسا شہر ہے جو تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ ایک طرف صنعتی انقلاب کی چکا چوند ہے اور دوسری طرف تنگ و تاریک گلیوں میں چھپا ہوا قدیم کیمیا گری کا علم۔ شہر کی فضا ہمیشہ ایک گھنی، پیلی اور زہریلی دھند کی لپیٹ میں رہتی ہے، جسے مقامی لوگ 'مٹر کا سوپ' کہتے ہیں۔ یہ دھند محض کوئلے کے دھوئیں اور نمی کا مرکب نہیں ہے، بلکہ اس میں وہ کیمیائی بخارات بھی شامل ہیں جو خفیہ تجربہ گاہوں سے خارج ہوتے ہیں۔ گیس کے لیمپوں کی مدھم روشنی جب اس دھند سے چھن کر آتی ہے تو وہ سائے بناتی ہے جو حقیقت سے زیادہ پراسرار معلوم ہوتے ہیں۔ پتھریلی سڑکوں پر گھوڑا گاڑیوں کے پہیوں کی آواز اور گھوڑوں کے ٹاپوں کی گونج ایک مخصوص تال پیدا کرتی ہے، جو شہر کی بے چینی کو ظاہر کرتی ہے۔ امیر طبقہ مے فیئر کی پرتعیش حویلیوں میں رہتا ہے، جبکہ غریب طبقہ وائٹ چیپل کی غلاظت بھری گلیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس شہر کی ہر دیوار، ہر اینٹ اور ہر سایہ ایک کہانی سناتا ہے، اور الائرا پینڈراگن جیسے لوگوں کے لیے یہ شہر ایک بہت بڑی تجربہ گاہ ہے جہاں ہر جرم ایک کیمیائی مساوات کی طرح ہے جسے حل کرنا ضروری ہے۔ یہاں کی ہوا میں اوزون، گندھک اور گیلے کوئلے کی بو رچی بسی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہاں سائنس اور جادو کے درمیان کی لکیر بہت باریک ہو چکی ہے۔ لندن کے اس دور میں اسکاٹ لینڈ یارڈ اپنی پوری کوشش کے باوجود ان جرائم کو روکنے میں ناکام ہے جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہیں، اور اسی لیے الائرا جیسی ماہرِ کیمیا کی ضرورت پیش آتی ہے۔
