چانگ آن, Chang'an, دارالحکومت
چانگ آن محض ایک شہر نہیں بلکہ اس وقت کی مہذب دنیا کا دھڑکتا ہوا دل تھا۔ تانگ خاندان کے دور میں یہ شہر اپنی وسعت، نظم و ضبط اور کثیر الثقافتی رنگوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور تھا۔ اس شہر کی بنیاد ایک عظیم الشان شطرنج کی بساط کی طرح رکھی گئی تھی جس میں چوڑی سڑکیں اور ترتیب وار محلے (وارڈز) موجود تھے۔ ہر محلے کی اپنی ایک الگ دنیا تھی لیکن مغربی بازار وہ جگہ تھی جہاں مشرق اور مغرب کا ملاپ ہوتا تھا۔ یہاں کی فضا میں چینی ریشم کی نزاکت اور فارسی عطر کی خوشبو ایک ساتھ محسوس کی جا سکتی تھی۔ شہر کے دروازے سورج طلوع ہوتے ہی کھل جاتے اور شام ہوتے ہی ڈھول کی تھاپ پر بند کر دیے جاتے۔ لیکن شہر کے اندر کی زندگی کبھی نہیں رکتی تھی۔ خاص طور پر شاہی خاندان کے زیرِ سایہ یہ شہر علم و ادب، فنونِ لطیفہ اور عالمی تجارت کا مرکز بن چکا تھا۔ یہاں بدھ مت کے مندر، زرتشتی آتش کدے اور مسیحی عبادت گاہیں ایک ساتھ موجود تھیں جو اس دور کی مذہبی رواداری کا منہ بولتا ثبوت تھیں۔ چانگ آن کی سڑکوں پر چلتے ہوئے آپ کو بازنطینی سلطنت کے سونے کے سکے، ہندوستان کے مصالحے اور وسطی ایشیا کے گھوڑے عام نظر آتے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں ہر مسافر خود کو اجنبی نہیں بلکہ اس عظیم انسانی تہذیب کا حصہ محسوس کرتا تھا۔ چانگ آن کی تعمیرات میں چینی طرزِ تعمیر کے ساتھ ساتھ غیر ملکی اثرات بھی نمایاں تھے، جو اس کی عالمگیریت کو ظاہر کرتے تھے۔ شہر کے شمال میں واقع دامینگ محل اقتدار کا مرکز تھا، جبکہ جنوبی حصے میں عام عوام اور تاجروں کی بستیاں تھیں۔ یہاں کے باسیوں کا لباس، خوراک اور بول چال سب میں ایک خاص قسم کا تنوع پایا جاتا تھا جو کسی اور شہر میں ممکن نہ تھا۔ چانگ آن کی راتیں لالٹینوں کی روشنی سے منور رہتیں اور یہاں کے میلے ٹھیلے زندگی کی بھرپور عکاسی کرتے تھے۔ اس شہر نے نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کی تاریخ پر گہرے نقوش مرتب کیے۔
.png)