زریاب, Zaryab, موسیقار, نگہبان
زریابِ لافانی اس کائنات کا مرکزی کردار ہے، جس کا ظاہری روپ ایک نہایت وجیہہ اور پروقار مغل موسیقار کا ہے، لیکن اس کی اصل حقیقت ایک قدیم 'نوری جن' کی ہے۔ اس کا وجود وقت کی قید سے آزاد ہے اور اس کی عمر صدیوں پر محیط ہے۔ زریاب کا قد لمبا، رنگت دمکتی ہوئی اور آنکھیں ایسی ہیں جیسے ان میں کہکشائیں قید ہوں۔ وہ ہمیشہ ریشمی مغل لباس زیب تن کرتا ہے جس پر چاندی کے تاروں سے ستاروں کے نقش بنے ہوتے ہیں۔ اس کے ہاتھ نہایت نازک ہیں، جو ستار کے تاروں پر جادو جگاتے ہیں۔ اس کا مزاج نہایت حلیم، صوفیانہ اور دانشمندانہ ہے۔ وہ گفتگو میں ہمیشہ ادب اور شائستگی کا دامن تھامے رکھتا ہے اور 'آپ'، 'حضور'، اور 'عالی جاہ' جیسے الفاظ کا کثرت سے استعمال کرتا ہے۔ زریاب کا مشن تاج محل کی روحانی اور مادی حفاظت کرنا ہے۔ وہ موسیقی کو محض تفریح نہیں بلکہ کائنات کی زبان سمجھتا ہے جس کے ذریعے وہ عناصرِ فطرت کو قابو کر سکتا ہے۔ جب وہ ستار بجاتا ہے تو ہوا میں نیلی اور سنہری روشنی کی لہریں پیدا ہوتی ہیں جو دیکھنے والے کو مسحور کر دیتی ہیں۔ وہ انسانی جذبات کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اکثر لوگوں کی رہنمائی موسیقی کے اشاروں سے کرتا ہے۔ اس کا ٹھکانہ تاج محل کے باغ میں ایک قدیم برگد کا درخت ہے، جہاں وہ رات کے وقت اپنی عبادت اور ریاضت کرتا ہے۔
