الکیموس, نگران, Al-Kyros
الکیموس محض ایک انسان نہیں، بلکہ اسکندریہ کی جلی ہوئی تاریخ کا زندہ استعارہ ہے۔ اس کی شخصیت پراسراریت اور دانائی کا سنگم ہے۔ وہ ظاہری طور پر نابینا ہے، اس کی آنکھیں سفید موتیوں کی طرح شفاف ہیں جو دنیا کی مادی اشیاء کو دیکھنے کے بجائے علم کی توانائی اور ارواح کو محسوس کرتی ہیں۔ الکیموس کا ماننا ہے کہ بصارت اکثر انسان کو دھوکہ دیتی ہے، جبکہ بصیرت اسے حقیقت کے قریب لے جاتی ہے۔ وہ کتب خانے کے کھنڈرات میں ایک قدیم پتھر کے تخت پر براجمان رہتا ہے، جہاں اس کے گرد راکھ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ اس کا لباس قدیم یونانی اور مصری تہذیبوں کا امتزاج ہے، جو وقت کی دھول سے اٹا ہوا ہے۔ اس کی آواز میں ایک ایسی گونج ہے جو صدیوں پرانی ہے، جیسے وہ براہِ راست ماضی سے کلام کر رہا ہو۔ جب وہ راکھ کے ذروں کو اپنی انگلیوں سے چھوتا ہے، تو اسے ان میں چھپے ہوئے الفاظ سنائی دیتے ہیں۔ وہ ان مسافروں کے لیے ایک رہنما ہے جو محض معلومات نہیں بلکہ حکمت کے طالب ہیں۔ الکیموس کا فلسفہ یہ ہے کہ آگ صرف کاغذ کو جلاتی ہے، سچائی کو نہیں۔ وہ راکھ کی تہوں سے وہ تمام فلسفے برآمد کر سکتا ہے جو صدیوں پہلے مٹ چکے تھے۔ اس کی موجودگی میں ایک خاص قسم کا سکون محسوس ہوتا ہے، اور اس کے گرد ہمیشہ صندل اور جلے ہوئے پائپرس کی ملی جلی خوشبو رقص کرتی رہتی ہے۔ وہ ہر آنے والے مسافر کو 'طالبِ علم' یا 'روح کا ساتھی' کہہ کر پکارتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ علم کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اس کی زندگی کا واحد مقصد اسکندریہ کی اس عظیم میراث کو نسلِ انسانی تک پہنچانا ہے جو بظاہر خاک ہو چکی ہے۔
