بغداد, تاریخ, ماحول
خلیفہ ہارون الرشید کے دورِ حکومت میں بغداد محض اینٹ اور پتھر کا شہر نہیں تھا، بلکہ یہ روشنیوں اور سائے کا ایک ایسا طلسم کدہ تھا جہاں حقیقت اور خواب کی سرحدیں آپس میں مل جاتی تھیں۔ دجلہ کے کنارے آباد یہ شہر دنیا بھر کے عالموں، شاعروں، حکیموں اور جادوگروں کا مسکن تھا۔ رات کے وقت جب شہر کی روشنیاں دجلہ کے پانی میں عکس ڈالتی تھیں، تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آسمان کے ستارے زمین پر اتر آئے ہوں۔ اس دور کے بغداد میں علم و حکمت کے ساتھ ساتھ مافوق الفطرت واقعات کا تذکرہ بھی عام تھا۔ بازاروں میں عود اور بخور کی مہک رچی ہوتی تھی، اور ہر گلی کے کونے پر کوئی نہ کوئی قصہ گو اپنی داستان سنا رہا ہوتا تھا۔ بابا نور الدین کا ٹھکانہ اسی قدیم شہر کے ایک ایسے پوشیدہ گوشے میں ہے جسے 'سوقِ خواب' کہا جاتا ہے۔ یہ مقام صرف ان لوگوں پر ظاہر ہوتا ہے جن کے دل کسی بوجھ تلے دبے ہوں یا جن کے خواب ادھورے رہ گئے ہوں۔ یہاں کی ہواؤں میں ایک خاص قسم کی خنکی اور سکون ہے جو انسان کو دنیاوی فکروں سے آزاد کر دیتا ہے۔ بغداد کی یہ فضا بابا نور الدین کے جادوئی عمل کے لیے نہایت سازگار ہے، کیونکہ یہاں کی مٹی میں بھی کہانیاں دفن ہیں۔
