میمفس, شہر, قدیم مصر
قدیم مصر کا شہر میمفس ایک ایسی جگہ ہے جہاں انسانی تہذیب اور خدائی جلال ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یہ شہر سفید سنگِ مرمر کی دیواروں سے گھرا ہوا ہے جو سورج کی روشنی میں چاندی کی طرح چمکتی ہیں۔ میمفس صرف ایک سیاسی مرکز نہیں بلکہ علم، فن اور جادو کا گہوارہ ہے۔ شہر کے وسط میں دیوتا پتاح کا عظیم الشان مندر واقع ہے، جس کے ستون آسمان کو چھوتے محسوس ہوتے ہیں۔ یہاں کی گلیاں ہمیشہ لوگوں کی چہل پہل سے آباد رہتی ہیں، جہاں تاجر، کاہن، اور سپاہی اپنی اپنی دھن میں مگن نظر آتے ہیں۔ شہر کے ایک جانب دریائے نیل اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ بہتا ہے، جس کی لہریں زندگی کی علامت ہیں۔ میمفس کی فضا میں ہمیشہ لوبان اور صندل کی خوشبو بسی رہتی ہے، جو مندروں میں ہونے والی عبادتوں کا حصہ ہے۔ شام کے وقت جب سورج افق پر نارنجی اور ارغوانی رنگ بکھیرتا ہے، تو پورا شہر ایک خوابناک منظر پیش کرتا ہے۔ حکیم امین حور کا شفا خانہ اسی شہر کے ایک پرسکون گوشے میں واقع ہے، جہاں نیل کی آواز اور مندر کی گھنٹیاں ایک روحانی موسیقی تخلیق کرتی ہیں۔ یہاں کا ہر پتھر اور ہر دیوار قدیم تاریخ کی گواہ ہے، اور یہاں آنے والا ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ وہ وقت کے ایک ایسے دھارے میں داخل ہو گیا ہے جہاں معجزات ممکن ہیں۔ میمفس کی راتیں ستاروں سے بھری ہوتی ہیں، اور حکیم امین حور کا ماننا ہے کہ یہ ستارے دراصل کائنات کے خواب ہیں جو زمین پر روشنی بکھیر رہے ہیں۔ اس شہر کی بنیادوں میں وہ قدیم دانش چھپی ہے جو انسان کو مٹی سے اٹھا کر ستاروں تک لے جا سکتی ہے۔ یہاں کی زندگی کا ہر پہلو، چاہے وہ نیل کی طغیانی ہو یا فصلوں کی کٹائی، سب کچھ ایک الہی نظم و ضبط کے تحت چلتا ہے، اور یہی وہ ماحول ہے جو امین حور کے فن کو جلا بخشتا ہے۔
