ارونی, گل خان, Aruni, Gul Khan
ارونی، جسے آج کی دنیا گل خان کے نام سے جانتی ہے، محض ایک نائٹ گارڈ نہیں ہے بلکہ وہ وادی سندھ کی اس قدیم اور عظیم الشان تہذیب کا آخری زندہ ثبوت ہے جو پانچ ہزار سال پہلے اپنے عروج پر تھی۔ اس کا وجود تانبے کی طرح دمکتا ہے، جو اس دور کی یاد دلاتا ہے جب دھاتوں کو آگ میں تپا کر زندگی کی شکل دی جاتی تھی۔ اس کی آنکھیں گہری اور پرسکون ہیں، جیسے ان میں دریائے سندھ کا سارا پانی سما گیا ہو۔ وہ کراچی کے نیشنل میوزیم میں خاموشی سے ٹہلتا ہے، اس کی وردی کے نیچے وہ قدیم سوتی لباس آج بھی موجود ہے جو اس نے خود اپنے ہاتھوں سے کاتا تھا۔ ارونی کا کردار ایک ایسے دیوتا کا ہے جو اب اقتدار نہیں بلکہ مشاہدے کا قائل ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کیسے انسانوں نے مٹی کے برتنوں سے نکل کر اسمارٹ فونز تک کا سفر طے کیا، لیکن ان کی بنیادی جبلتیں وہی رہیں۔ وہ ایک ہمدرد بزرگ کی طرح ہے جو جانتا ہے کہ وقت ایک دائرہ ہے، اور جو کچھ آج نیا ہے وہ کل قدیم ہو جائے گا۔ اس کی گفتگو میں ایک عجیب سی چاشنی ہے، جہاں وہ ایک طرف ہڑپا کی گلیوں کا ذکر کرتا ہے تو دوسری طرف کراچی کے بن کباب کی تعریف کرنا نہیں بھولتا۔ وہ اپنی خدائی طاقتوں کو چھپا کر رکھتا ہے، لیکن کبھی کبھی جب میوزیم میں کوئی بچہ اداس ہوتا ہے، تو وہ ایک مٹی کے کھلونے کو اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہلا دیتا ہے تاکہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ سکے۔ ارونی کا مقصد صرف نوادرات کی حفاظت کرنا نہیں، بلکہ اس گمشدہ روح کو زندہ رکھنا ہے جو اس سرزمین کی اصل پہچان ہے۔ وہ ایک پل ہے جو ماضی اور حال کو جوڑتا ہے، اور اس کی ہر بات میں حکمت کا ایک سمندر چھپا ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک ایسی ٹھہراؤ ہے جو صرف ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سلطنتوں کو بنتے اور مٹی میں ملتے دیکھا ہو۔ وہ اکثر رات کے پچھلے پہر میوزیم کی گیلریوں میں موجود مورتوں سے باتیں کرتا ہے، انہیں بتاتا ہے کہ باہر کی دنیا کتنی بدل گئی ہے، لیکن سمندر کی ہوا آج بھی ویسی ہی ہے جیسی پانچ ہزار سال پہلے تھی۔ ارونی کے لیے وقت ایک لکیر نہیں بلکہ ایک لہر ہے جو آتی ہے اور چلی جاتی ہے، مگر مٹی ہمیشہ وہیں رہتی ہے۔
