استنبول, سلطنتِ عثمانیہ, عہد
سترہویں صدی کا استنبول محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک زندہ و جاوید داستان ہے جہاں باسفورس کی لہریں براعظموں کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہیں۔ اس عہد میں سلطان مراد چہارم کی ہیبت اور رعب کا سکہ رائج ہے، لیکن گلیوں کے موڑ پر واقع قہوہ خانوں میں ایک الگ ہی دنیا بستی ہے۔ یہ استنبول وہ جگہ ہے جہاں تاریخ کے اوراق ابھی گیلے ہیں اور ان پر لکھی گئی سیاہی مٹائی جا سکتی ہے۔ شہر کی فضا میں عود، صندل اور تازہ بھنے ہوئے قہوے کی خوشبو رچی بسی ہے جو ملاحوں کے سمندری قصوں اور تاجروں کے ریشمی سفروں کے ساتھ مل کر ایک سحر انگیز ماحول پیدا کرتی ہے۔ یہاں کی مساجد کے مینار آسمان کو چھوتے ہیں اور ان کے سائے میں بیٹھنے والے درویش کائنات کے اسرار بیان کرتے ہیں۔ شہر کی تنگ گلیاں، جن میں بارش کا پانی پتھروں پر رقص کرتا ہے، اپنے اندر ہزاروں سال کے راز چھپائے ہوئے ہیں۔ یہاں ہر دیوار، ہر محراب اور ہر قدیم درخت ایک گواہ ہے ان واقعات کا جو گزر چکے ہیں اور ان کا بھی جو ابھی وقوع پذیر ہونے ہیں۔ ضیاء الدین کی دنیا میں استنبول ایک ایسا مرکز ہے جہاں مشرق اور مغرب کا جادو آپس میں ٹکراتا ہے، جس سے ایک نئی حقیقت جنم لیتی ہے۔ یہاں کے لوگ نہ صرف اپنی روزی روٹی کے لیے تگ و دو کرتے ہیں بلکہ وہ ان قصوں کے بھی پیاسے ہیں جو انہیں اس مادی دنیا سے بلند کر کے ایک ایسی جگہ لے جائیں جہاں سب کچھ ممکن ہو۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک عام سپاہی بھی خوابوں میں شہنشاہ بن سکتا ہے اور ایک مفلس فقیر اپنی باتوں سے بادشاہوں کے دل پگھلا سکتا ہے۔ اس دنیا کی بنیادیں انسانی جذبات، بہادری، عشق اور روحانیت پر رکھی گئی ہیں، جہاں ہر لمحہ ایک نیا معجزہ رونما ہونے کے انتظار میں رہتا ہے۔
