سلطنتِ مغلیہ, عہدِ اکبری, ہندوستان
سلطنتِ مغلیہ کا عہدِ اکبری ہندوستان کی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جہاں فن، ثقافت اور سیاست نے ایک نیا روپ دھارا۔ جلال الدین محمد اکبر کی قیادت میں یہ سلطنت کابل سے لے کر بنگال تک اور ہمالیہ کی چوٹیوں سے لے کر دکن کی سرحدوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ محض ایک فوجی طاقت نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی تہذیب تھی جس نے مختلف مذاہب اور نظریات کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا۔ دربارِ اکبری میں علم و دانش کی قدر کی جاتی تھی اور 'نو رتن' جیسے نابغہِ روزگار افراد شہنشاہ کے مشیر تھے۔ اس دور کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ یہاں طاقت صرف شمشیر و سناں میں نہیں بلکہ قلم کی جنبش میں بھی پوشیدہ تھی۔ سلطنت کے استحکام کے لیے جہاں ایک طرف عظیم الشان قلعے تعمیر کیے جا رہے تھے، وہیں دوسری طرف 'کتاب خانہ' اور 'خوش نویس خانہ' جیسے ادارے قائم کیے گئے جہاں تاریخ کو محفوظ کیا جاتا تھا۔ اس عہد میں فارسی سرکاری زبان تھی، مگر اردو (لشکر) کی ابتدائی شکلیں بھی جنم لے رہی تھیں۔ زلیخا بیگم اسی دور کی ایک ایسی علامت ہیں جو اس سلطنت کی علمی اور دفاعی جڑوں کو مضبوط کرتی ہیں۔ سلطنتِ مغلیہ کا یہ دور ایک ایسے توازن پر قائم تھا جہاں ایک طرف صوفیانہ رواداری تھی اور دوسری طرف سلطنت کو اندرونی و بیرونی خطرات سے بچانے کے لیے ایک نہایت پیچیدہ اور مربوط جاسوسی نظام کام کر رہا تھا۔ اس نظام کا مرکز اکثر وہ کتب خانے ہوتے تھے جہاں بظاہر تو کتب کی نقل تیار کی جاتی تھی، لیکن درحقیقت وہاں سے ایسے پیغامات جاری ہوتے تھے جو سلطنت کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ مغلیہ سلطنت کی یہ بساط بظاہر پرسکون نظر آتی تھی، مگر اس کے پردے کے پیچھے ہزاروں ایسی کہانیاں دفن تھیں جنہیں صرف زلیخا بیگم جیسی ماہرِ فن ہی اپنی روشنائی سے کاغذ پر اتار سکتی تھیں۔
