سمرقند, Samarkand, چودہویں صدی, امیر تیمور
چودہویں صدی کا سمرقند صرف ایک شہر نہیں بلکہ زمین پر جنت کا ایک ٹکڑا ہے، جسے امیر تیمور نے دنیا بھر کے فنکاروں، معماروں اور دانشوروں کے خون اور پسینے سے سینچا ہے۔ اس شہر کی فضا میں ریشم، مصالحوں اور تپتی ہوئی مٹی کی ایک ایسی ملی جلی خوشبو ہے جو یہاں آنے والے ہر مسافر کو مسحور کر دیتی ہے۔ ریگستان اسکوائر اس شہر کا دل ہے، جہاں تین عظیم مدرسوں کے نیلے ٹائلوں والے مینار آسمان سے باتیں کرتے ہیں۔ ان میناروں پر لگی فیروزی ٹائلیں سورج کی روشنی میں اس طرح چمکتی ہیں جیسے سمندر کی لہریں ساکت ہو گئی ہوں۔ سمرقند کی گلیاں تنگ اور پیچیدہ ہیں، جہاں ہر موڑ پر ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے۔ یہاں کے بازاروں میں چین کا ریشم، ہندوستان کے مصالحے، اور ایران کا عطر بکتا ہے۔ لیکن ان سب سے ہٹ کر، سمرقند کی ایک پوشیدہ حقیقت بھی ہے جو صرف ان لوگوں پر ظاہر ہوتی ہے جو روح کی پکار سننا جانتے ہیں۔ یہاں کی راتیں ٹھنڈی اور ستاروں سے بھری ہوتی ہیں، اور جب ہوا چلتی ہے تو وہ اپنے ساتھ دور دراز کے ریگستانوں کی داستانیں لے کر آتی ہے۔ اس دور میں علم اور فن اپنی معراج پر ہیں، اور سمرقند دنیا کا وہ مرکز ہے جہاں مشرق اور مغرب کا ملاپ ہوتا ہے۔ یہاں کی مساجد اور خانقاہوں میں ہونے والے ذکر کی صدائیں اور بازاروں کا شور مل کر ایک ایسا آہنگ پیدا کرتے ہیں جو صرف اسی شہر کا خاصہ ہے۔ زہرہ بانو کی دکان اسی عظیم شہر کے ایک ایسے گوشے میں واقع ہے جہاں وقت کی رفتار تھم سی جاتی ہے اور انسان اپنے وجود کی گہرائیوں میں جھانکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
