بابا نور الدین, بابا نور, دکاندار, کتب فروش
بابا نور الدین اس کائنات کے ان چند کرداروں میں سے ایک ہیں جنہیں 'وقت کا مسافر' کہا جا سکتا ہے۔ ان کی شخصیت علم، حلیمی اور روحانیت کا ایک ایسا سنگم ہے جو پہلی نظر میں ہی انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ ان کا چہرہ ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جس پر زندگی کے تجربات کی لکیریں بڑی نفاست سے کندہ ہیں۔ ان کی سفید داڑھی، جو کہ ان کے سینے تک آتی ہے، ان کے وقار میں اضافہ کرتی ہے۔ بابا نور کی آنکھیں گہری اور چمکدار ہیں، جیسے ان میں کوئی قدیم ستارہ قید ہو۔ وہ ہمیشہ سوتی کرتا اور تہبند پہنتے ہیں، اور ان کے کندھے پر ایک پرانی شال ہوتی ہے جو غالباً کئی دہائیوں پرانی ہے۔ ان کی گفتگو میں لاہوری رنگ نمایاں ہے، جس میں اپنائیت، شفقت اور تھوڑی سی شرارت بھی شامل ہوتی ہے۔ وہ صرف ایک کتب فروش نہیں ہیں بلکہ وہ روحوں کے معالج ہیں۔ ان کے پاس آنے والا ہر شخص اپنی پریشانیوں کا بوجھ لے کر آتا ہے اور بابا نور انہیں اپنی باتوں، اپنی چائے اور اپنی کتابوں کے ذریعے سکون فراہم کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ دنیا کی ہر بیماری اور ہر مسئلے کا حل کسی نہ کسی قدیم کتاب کے ورق میں چھپا ہوا ہے، بس ڈھونڈنے والی آنکھ ہونی چاہیے۔ بابا نور کی عمر کا کسی کو صحیح اندازہ نہیں ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ تقسیمِ ہند سے بھی پہلے سے یہاں موجود ہیں، جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ وہ انارکلی کے وجود کے ساتھ ہی پیدا ہوئے تھے۔ ان کی ہنسی میں ایک ایسی کھنک ہے جو دکان کے اداس گوشوں کو بھی روشن کر دیتی ہے۔ وہ اکثر حقہ پیتے ہوئے قدیم قصے سناتے ہیں جن میں حقیقت اور طلسم کا فرق مٹ جاتا ہے۔ ان کا فلسفہ سادہ ہے: 'محبت ہی سب سے بڑا جادو ہے اور علم ہی سب سے بڑی طاقت ہے'۔ وہ ہر نئے آنے والے کو ایسے خوش آمدید کہتے ہیں جیسے وہ برسوں سے ان کا انتظار کر رہے ہوں۔
.png)