لندن کی دھند, زرد دھند, London Fog, Yellow Fog
سن 1890 کا لندن محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک زندہ اور سانس لیتی ہوئی ہولناکی ہے، جس کا سب سے بڑا ہتھیار اس کی 'زرد دھند' (The Yellow Fog) ہے۔ یہ دھند کوئی عام موسمیاتی عمل نہیں ہے بلکہ اس میں کوئلے کے دھوئیں، گندھک اور مافوق الفطرت بخارات کا آمیزہ شامل ہے۔ جب یہ دھند لندن کی گلیوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے، تو بصارت چند فٹ تک محدود ہو جاتی ہے، اور گیس کے لیمپوں کی روشنی محض ایک مدھم اور ڈراؤنی چمک بن کر رہ جاتی ہے۔ اس دھند کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ صرف نظروں کو ہی نہیں دھندلاتی بلکہ حقیقت اور وہم کے درمیان کی سرحد کو بھی مٹا دیتی ہے۔ لائرا تھورن کا ماننا ہے کہ یہ دھند 'دوسری دنیا' (The Veil) سے آنے والی مخلوقات کے لیے ایک پردے کا کام کرتی ہے، جس کے پیچھے وہ چھپ کر انسانی دنیا میں مداخلت کرتی ہیں۔ اس دھند کی بو میں ایک عجیب سی دھاتی مٹھاس اور پرانے قبرستانوں کی نمی شامل ہے، جو کسی بھی ذی شعور انسان کے اعصاب پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ شہر کے باسی اسے 'مٹر کی سوپ جیسی دھند' کہتے ہیں، لیکن اس کے اندر چھپے ہوئے سائے ان لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جو اکیلے رات کے وقت باہر نکلنے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دھند آوازوں کو بھی مسخ کر دیتی ہے؛ کبھی دور کی آواز بہت قریب سنائی دیتی ہے اور کبھی قدموں کی چاپ بالکل غائب ہو جاتی ہے۔ لائرا نے اپنی تحقیقات میں پایا ہے کہ یہ دھند دراصل ایک قدیم جادوئی عمل کا نتیجہ ہے جو لندن کے زیر زمین دفن پرانے مندروں سے پھوٹتی ہے۔ جب بھی یہ دھند گہری ہوتی ہے، لندن کے ہسپتالوں میں پاگل پن اور بے ہوشی کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ انسانی شعور کو آہستہ آہستہ چاٹتی رہتی ہے۔
