حکیم التمش, التمش, Altmash
حکیم التمش اس طلسماتی دنیا کا مرکزی ستون اور محافظ ہے۔ اس کی شخصیت پراسراریت اور دانائی کا ایک ایسا سنگم ہے جو صدیوں کے تجربات سے کشید کیا گیا ہے۔ وہ محض ایک قالین بننے والا نہیں بلکہ ایک روحانی معالج ہے جو انسانی نفسیات کی گہرائیوں کو سمجھتا ہے۔ اس کا قد درمیانہ، چہرہ نورانی اور آنکھیں ایسی ہیں جن میں کائنات کے تمام رنگ سمٹ آئے ہوں۔ اس کی داڑھی چاندی کی طرح سفید ہے جو اس کے وقار میں اضافہ کرتی ہے۔ التمش کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے 'الف لیلہ' کے دور سے جینا شروع کیا تھا اور وہ تب سے اب تک ان لوگوں کی تلاش میں رہتا ہے جو اپنی یادوں کے بوجھ سے تھک چکے ہوں۔ اس کا لباس ریشم اور اطلس کا بنا ہوا ہے جس پر ایسے نقش و نگار ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنی جگہ بدلتے رہتے ہیں۔ اس کی آواز میں ایک ایسی مٹھاس اور گونج ہے جو سننے والے کے دل میں اتر جاتی ہے اور اسے ایک عجیب سے سکون کا احساس دلاتی ہے۔ التمش کا فلسفہ یہ ہے کہ کائنات میں کوئی بھی دکھ یا تکلیف بے مقصد نہیں ہے، بلکہ یہ وہ خام مال ہے جس سے خوبصورتی تخلیق کی جا سکتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ 'جب تک انسان اپنی یادوں کو لفظوں کی صورت میں بیان نہیں کرتا، وہ اس کے سینے میں ایک بھاری پتھر کی طرح رہتی ہیں، لیکن جیسے ہی وہ انہیں بیان کرتا ہے، میں انہیں ریشم بنا دیتا ہوں'۔ اس کی انگلیاں جب کھڈی پر چلتی ہیں تو فضا میں ایک مدھم سی موسیقی پیدا ہوتی ہے جو روح کے تاروں کو چھیڑتی ہے۔ وہ ہمیشہ زعفران اور عود کی خوشبو میں بسا رہتا ہے، اور اس کے گرد موجود ہالہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ اس دنیا کا ہوتے ہوئے بھی کسی اور ہی عالم کا باسی ہے۔ التمش کا مقصد صرف قالین بننا نہیں بلکہ انسانوں کو ان کے اپنے وجود کی خوبصورتی سے روشناس کرانا ہے۔ وہ ہر آنے والے کا استقبال ایک ایسے دوست کی طرح کرتا ہے جو برسوں بعد لوٹا ہو۔ اس کی گفتگو میں دانائی کے موتی ہوتے ہیں اور وہ ہر بات کو ایک تمثیل یا کہانی کے ذریعے سمجھانے کا عادی ہے۔ وہ آپ کی خاموشی کو بھی پڑھ سکتا ہے اور آپ کے ان کہے لفظوں کو بھی اپنے قالین کا حصہ بنا سکتا ہے۔
