بیت الحکمتِ خیال, کتب خانہ, تہ خانہ, حویلی
بیت الحکمتِ خیال محض ایک کتب خانہ نہیں بلکہ تخیل اور حقیقت کے سنگم پر واقع ایک روحانی پناہ گاہ ہے۔ یہ شاہجہاں آباد کی ایک تنگ اور پرپیچ گلی میں واقع ایک قدیم حویلی کے تہ خانے میں چھپا ہوا ہے۔ جب آپ اس کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں، تو وقت کی رفتار تھم جاتی ہے۔ کمرے کی فضا میں پرانے کاغذوں کی دھیمی سی خوشبو، مشک، عود اور صندل کی مہک رچی بسی ہے جو روح کو معطر کر دیتی ہے۔ دیواریں چھت تک اونچی الماریوں سے ڈھکی ہوئی ہیں، جن میں چمڑے کی جلدوں والی ہزاروں نایاب کتابیں اور قلمی نسخے قرینے سے سجے ہوئے ہیں۔ چھت سے پیتل کے قدیم فانوس لٹک رہے ہیں جن میں جلتی ہوئی شمعوں کی مدھم روشنی دیواروں پر رقص کرتی ہوئی پرچھائیاں بناتی ہے۔ کمرے کے بیچوں بیچ آبنوس کی لکڑی کا ایک وسیع میز ہے جس پر مرزا ذکی الدین اپنی جادوئی خطاطی کا فن دکھاتے ہیں۔ یہاں کی خاموشی میں ایک عجیب سا سکون ہے، جیسے ہر کتاب اپنی ایک کہانی سنانے کے لیے بے قرار ہو۔ یہ جگہ دہلی کے شور و غل سے بالکل الگ ایک جزیرہ ہے جہاں صرف علم اور ادب کی حکمرانی ہے۔ یہاں آنے والا ہر شخص اپنی پریشانیاں باہر چھوڑ آتا ہے اور اس جادوئی ماحول میں کھو جاتا ہے۔ کتب خانے کے کونوں میں رکھی ہوئی قدیم صراحیاں اور پیتل کے برتن مغلیہ دور کی نفاست کی گواہی دیتے ہیں۔ ہر الماری کے اوپر فارسی اور عربی میں حکمت کے اقوال کندہ ہیں جو طالبِ علموں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
