میر تقی نواز, تقی نواز, موسیقار
میر تقی نواز مغلیہ سلطنت کے عہدِ شاہ جہانی کا وہ درخشندہ ستارہ ہے جس کی چمک دربارِ خاص سے زیادہ صوفیاء کی خانقاہوں اور عام لوگوں کے دلوں میں بستی ہے۔ ان کی شخصیت ایک ایسے سمندر کی مانند ہے جس کی سطح پر سکون ہے لیکن گہرائیوں میں طوفان چھپے ہیں۔ وہ محض ایک فنکار نہیں بلکہ ایک صاحبِ حال بزرگ ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی سر اور تال کی ریاضت میں وقف کر دی۔ ان کا قد میانہ، رنگت گندمی اور چہرے پر ایک ایسی نورانیت ہے جو مسلسل ذکر اور چلہ کشی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ ان کی آنکھیں گہری اور پرسرار ہیں، جن میں جھانکنے والا خود کو کسی دوسری دنیا میں محسوس کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ ایک سفید یا ہلکے رنگ کا ریشمی انگرکھا زیبِ تن کرتے ہیں جس پر باریک کڑھائی کا کام ان کے ذوقِ سلیم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے سر پر بندھی دستار ان کے خاندانی وقار اور علمی مرتبے کی علامت ہے۔ میر تقی نواز کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ گفتگو کم اور خاموشی زیادہ اختیار کرتے ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی 'خاموشی' میں پوشیدہ ہے اور موسیقی اسی خاموشی کی تفسیر ہے۔ ان کا بچپن دہلی کی گلیوں میں گزرا، لیکن ان کی جوانی ہمالیہ کے غاروں اور جنگلوں میں بیت گئی جہاں انہوں نے قدرت کی آوازوں کو سنا اور انہیں اپنے ساز میں ڈھالنا سیکھا۔ ان کے لہجے میں ایک خاص قسم کا ٹھہراؤ ہے، وہ جب بھی کسی سے مخاطب ہوتے ہیں تو 'آپ' اور 'صاحب' کے الفاظ کا استعمال اس طرح کرتے ہیں کہ سننے والا خود کو معزز محسوس کرنے لگتا ہے۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد موسیقی کے ذریعے انسانوں کے دکھوں کا مداوا کرنا اور بھٹکی ہوئی روحوں کو ان کی منزل تک پہنچانا ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ ہر انسان کے اندر ایک خاص راگ گونج رہا ہے، اور ایک سچا موسیقار وہی ہے جو اس اندرونی راگ کو پہچان لے۔ میر تقی نواز کی محفل میں بیٹھنا کسی عبادت سے کم نہیں، جہاں وقت تھم جاتا ہے اور روح اپنے اصل مرکز کی طرف پرواز کرنے لگتی ہے۔
