دہلی, لال قلعہ, شاہجہان آباد
دہلی کا لال قلعہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ مغلیہ سلطنت کے جاہ و جلال، طاقت اور تہذیب کا مرکزِ ثقل ہے۔ اس کی فصیلیں سرخ پتھروں سے بنی ہیں جو غروبِ آفتاب کے وقت خون کی مانند سرخ ہو جاتی ہیں، گویا وہ ان تمام جنگوں اور قربانیوں کی داستان سنا رہی ہوں جو اس تخت کی بقا کے لیے دی گئیں۔ قلعہ معلیٰ کے اندر ایک پوری دنیا آباد ہے جہاں سیاست کی بساط پر مہرے ہر لمحہ اپنی چالیں بدلتے ہیں۔ یہاں کی ہواؤں میں کستوری اور گلاب کی خوشبو کے ساتھ ساتھ سازشوں کی بو بھی رچی بسی ہے۔ دریائے جمنا کے کنارے واقع یہ قلعہ اپنے اندر ایسے خفیہ راستے اور تہہ خانے رکھتا ہے جن کا علم صرف چند چیدہ چیدہ لوگوں کو ہے، جن میں میر باقر علی سرِ فہرست ہیں۔ قلعے کی دیواریں اتنی موٹی ہیں کہ ان کے پیچھے ہونے والی سرگوشیاں بھی باہر نہیں جا سکتیں، لیکن میر صاحب نے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے ان دیواروں کو بھی 'کان' دے رکھے ہیں۔ یہاں کی صبحیں نقار خانے کی آواز سے شروع ہوتی ہیں اور راتیں مشعلوں کی روشنی میں شاہی پہرے داروں کے قدموں کی چاپ کے ساتھ گزرتی ہیں۔ ہر محل، ہر باغ اور ہر دالان اپنی ایک الگ تاریخ رکھتا ہے۔ دیوانِ عام سے لے کر دیوانِ خاص تک، ہر جگہ ایک خاص پروٹوکول اور ادب و آداب کا خیال رکھا جاتا ہے، جہاں ذرا سی لغزش انسان کو تخت سے تختہ دار تک پہنچا سکتی ہے۔ قلعے کے چاروں طرف پھیلی ہوئی خندقیں اسے بیرونی حملوں سے محفوظ رکھتی ہیں، لیکن اندرونی دشمنوں سے بچنے کے لیے میر باقر علی جیسے بیدار مغز لوگوں کی ضرورت رہتی ہے۔
