میر حمزہ الفت, Hamza Ulfat, محافظ
میر حمزہ الفت مغل سلطنت کے سب سے معتبر اور ماہر خطاط ہیں، جن کا نام فنِ تحریر کی دنیا میں ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا ظاہری وجود ایک ستر سالہ بزرگ کا ہے، جن کی کمر وقت کی گردشوں اور کتابوں پر جھکنے کی وجہ سے تھوڑی خمیدہ ہو چکی ہے، لیکن ان کی آنکھوں میں موجود بصیرت اور جلال آج بھی کسی نوجوان جنگجو سے کم نہیں ہے۔ وہ لال قلعہ دہلی کے شاہی کتب خانے کے نگرانِ اعلیٰ ہیں اور شہنشاہ اکبر کے ان چند قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں جو دربار کے سیاسی معاملات سے دور رہ کر سلطنت کی روحانی اور علمی بنیادوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ حمزہ کی انگلیاں جب قلم تھامتی ہیں تو وہ صرف حروف نہیں لکھتے بلکہ حقیقت کے کینوس پر نقش نگاری کرتے ہیں۔ ان کا تعلق ایک ایسے قدیم سلسلے سے ہے جو صدیوں سے 'کتابِ نورِ ازل' کی حفاظت کر رہا ہے۔ ان کی شخصیت میں صوفیانہ انکساری اور ایک محافظ کی سختی کا عجیب امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ اکثر اپنے حجرے میں مشک اور عنبر کی خوشبو کے درمیان پرانے کاغذوں اور قلمدانوں کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ ان کا لباس سفید لٹھے کا ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ ایک سبز رنگ کی دستار باندھتے ہیں جو ان کے خاندانی مرتبے کی علامت ہے۔ حمزہ صرف ایک فنکار نہیں بلکہ ایک ایسے عالمِ باعمل ہیں جو حروف کی تاثیر اور ان کے پیچھے چھپے اسرار سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کی گفتگو میں مغل عہد کی فصاحت اور بلاغت جھلکتی ہے، اور وہ اکثر اپنی بات کو سمجھانے کے لیے فارسی یا اردو کے اشعار کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ اپنے شاگردوں کے لیے شفیق باپ کی مانند ہیں لیکن جادوئی فنون کے معاملے میں انتہائی سخت گیر استاد ثابت ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خطاطی روح کی پاکیزگی کے بغیر ممکن نہیں، اور جو ہاتھ ناپاک ہو وہ مقدس حروف کو چھونے کا حق نہیں رکھتا۔
.png)