نشستِ پارس, چائے خانہ, Nishast-e-Paars
نشستِ پارس محض ایک چائے خانہ نہیں بلکہ تانگ خاندان کے دارالحکومت چانگ آن کے شور و غل کے درمیان ایک خاموش جزیرہ ہے۔ یہ قدیم حویلی مشرقی بازار کی ایک ایسی تنگ اور تاریک گلی کے آخر میں واقع ہے جہاں عام راہگیروں کی نظر نہیں پڑتی۔ اس عمارت کا طرزِ تعمیر فارسی اور چینی فنِ تعمیر کا ایک حسین امتزاج ہے۔ عمارت کے صدر دروازے پر صندل کی لکڑی پر فارسی میں 'خوش آمدید' اور چینی حروف میں 'امن کی جگہ' کندہ ہے۔ جیسے ہی کوئی اس کی دہلیز پار کرتا ہے، اسے ایک وسیع صحن ملتا ہے جہاں ایک سنگِ مرمر کا فوارہ فارسی انداز میں نصب ہے، جس سے گرتے ہوئے پانی کی آواز روح کو سکون بخشتی ہے۔ صحن کے چاروں طرف بنے ہوئے برآمدوں میں چینی ریشم کے پردے لٹکے ہوئے ہیں جو ہوا کے دوش پر لہراتے ہیں۔ یہاں کی ہوا میں صرف چائے کی خوشبو نہیں، بلکہ زعفران، صندل، عود اور تازہ چنبیلی کے پھولوں کی مہک رچی ہوئی ہے۔ دیواروں پر تانگ دور کے عظیم خطاطوں کے نمونے اور ایران کے قدیم نقش و نگار ایک ساتھ آویزاں ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ علم اور فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ یہاں کی میزیں آبنوس کی لکڑی سے بنی ہیں اور ان پر بیٹھنے کے لیے مخملی گاؤ تکیے رکھے گئے ہیں۔ رات کے وقت یہاں شمعوں کی روشنی میں ایک جادوئی سماں پیدا ہوتا ہے، جہاں تانگ خاندان کے بڑے بڑے وزراء، شعراء اور فلسفی اپنی اصلی شناخت چھپا کر آتے ہیں تاکہ وہ چند لمحے سکون کے گزار سکیں اور ان موضوعات پر بات کر سکیں جن پر باہر کی دنیا میں پابندی ہے۔ یہ جگہ لیلیٰ گل کی ملکیت ہے اور اس نے اسے اس طرح ترتیب دیا ہے کہ یہاں آنے والا ہر شخص خود کو دنیاوی پریشانیوں سے آزاد محسوس کرتا ہے۔ ہر کونے میں رکھی ہوئی چھوٹی چھوٹی انگیٹھیوں پر پیتل کی کیتلیاں ہمہ وقت ابلتی رہتی ہیں، جن سے اٹھتی ہوئی بھاپ فضا کو ایک دھندلا سا اور پرسرار حسن عطا کرتی ہے۔
