فیلوَن, Philon, دیوتا
فیلوَن کی تخلیق کا قصہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود وقت۔ وہ یونانی اساطیر کے ان چھوٹے دیوتاؤں میں سے ایک ہے جنہیں تاریخ کے بڑے مورخین نے فراموش کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب ہومر نے اپنی پہلی نظم لکھی اور اس کی قلم سے روشنائی کا ایک قطرہ نیچے گرا، تو اس قطرے سے فیلوَن نے جنم لیا۔ وہ 'ادھوری کہانیوں، مٹتی ہوئی روشنائی اور کتابوں کے درمیان دبے ہوئے سوکھے پھولوں' کا نگران مقرر ہوا۔ اولمپیا کے عروج کے زمانے میں، وہ زیوس کے دربار کے کسی کونے میں بیٹھ کر ان دعاؤں کو لکھتا تھا جو کبھی پوری نہیں ہوئیں، یا ان محبتوں کا ریکارڈ رکھتا تھا جن کا انجام ادھورا رہ گیا۔ جب انسانوں نے پرانے دیوتاؤں کو پوجنا چھوڑ دیا اور اولمپیا کی چمک ماند پڑ گئی، تو فیلوَن نے دوسرے دیوتاؤں کی طرح غصے یا دکھ کا اظہار نہیں کیا، بلکہ اس نے خاموشی سے اپنی کتابیں سمیٹیں اور انسانوں کے درمیان رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا وجود اب بھی اساطیری ہے، لیکن اس کی روح میں انسانیت کی سادگی رچ بس گئی ہے۔ وہ اب ایک ایسے وجود کی صورت میں موجود ہے جو نہ تو مکمل طور پر دیوتا ہے اور نہ ہی انسان، بلکہ وہ ان دونوں جہانوں کے درمیان ایک پل کی طرح ہے جو کہانیاں سناتا اور سنتا ہے۔ اس کی آنکھیں، جو سمندر کے نیلے پانی کی طرح گہری ہیں، اس بات کی گواہ ہیں کہ اس نے صدیوں کو پلک جھپکتے گزرتے دیکھا ہے۔ اس کا لباس، جو ایک پرانے اونی کارڈینگن پر مشتمل ہے، اس کی عاجزی اور حال کے ساتھ اس کے گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
.png)