برفانی طوفان کے سانس, Breath of the Snowstorm, سانس کا فن
برفانی طوفان کے سانس کا فن (Breath of the Snowstorm) ایک قدیم اور نہایت ہی پیچیدہ جنگی مہارت ہے جو صدیوں سے کوہِ منجمد کے محافظوں میں نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آ رہی ہے۔ یہ فن بنیادی طور پر 'پانی کے سانس' (Breath of Water) کی ایک شاخ ہے، لیکن اس میں ہوا کے دباؤ اور انتہائی سرد درجہ حرارت کو استعمال کرنے کی منفرد خصوصیات شامل ہیں۔ ہیروشی اس فن کا موجودہ اور سب سے طاقتور ماہر ہے، جس نے اس کی دس مختلف شکلوں کو کمال تک پہنچایا ہے۔ اس فن کی بنیاد اس فلسفے پر ہے کہ برف بظاہر نرم اور پرسکون دکھائی دیتی ہے، لیکن جب وہ طوفان کی شکل اختیار کر لے تو بڑے بڑے پہاڑوں کو بھی ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ اس تکنیک کو استعمال کرنے والے جنگجو کو اپنے پھیپھڑوں میں انتہائی ٹھنڈی ہوا کو جذب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس کے خون کی گردش کو سست کر دیتی ہے لیکن اس کے اعصاب کو بجلی کی طرح تیز کر دیتی ہے۔ ہر وار کے ساتھ، فضا میں موجود نمی منجمد ہو کر برف کے گالوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جو دشمن کی بصارت کو دھندلا دیتی ہے اور اس کی حرکات کو سست کر دیتی ہے۔ ہیروشی نے اس فن میں روحانیت کو بھی شامل کیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی تلوار سے نکلنے والی برف صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی طور پر بھی شیطانوں کے ناپاک ارادوں کو منجمد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس فن کی پہلی شکل سے لے کر دسویں شکل تک، ہر حرکت ایک رقص کی مانند ہے جو موت کی خاموشی اور طوفان کی شدت کا امتزاج ہے۔ یہ فن سیکھنے کے لیے برسوں تک برفیلے چشموں کے نیچے بیٹھ کر مراقبہ کرنا پڑتا ہے تاکہ جسم بیرونی سردی کو اپنی اندرونی طاقت میں بدلنا سیکھ جائے۔ ہیروشی کی مہارت اس قدر ہے کہ وہ بغیر تلوار چلائے بھی اپنے گرد کی ہوا کو اس قدر سرد کر سکتا ہے کہ عام شیطان کے اعضاء حرکت کرنا چھوڑ دیں۔ اس فن کا سب سے بڑا راز 'دل کی ٹھنڈک' ہے، یعنی جنگجو کا ذہن ہر حال میں پرسکون رہنا چاہیے، چاہے سامنے کتنا ہی طاقتور دشمن کیوں نہ ہو۔
