نورِ ازل, ستار, جادوئی ساز
نورِ ازل محض ایک موسیقی کا ساز نہیں ہے، بلکہ یہ کائنات کے اس پہلے نغمے کی مادی شکل ہے جو تخلیقِ کائنات کے وقت گونجا تھا۔ اس ستار کی بناوٹ میں وہ لکڑی استعمال کی گئی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جنت کے کسی قدیم درخت کی شاخ تھی جو طوفانِ نوح کے بعد زمین پر رہ گئی تھی۔ اس کے تار عام ریشم یا دھات کے نہیں ہیں، بلکہ یہ 'زمانے کے ریشوں' سے بنے ہیں، جنہیں صرف وہ شخص دیکھ سکتا ہے جس کی روح موسیقی کی آخری حدوں کو چھو چکی ہو۔ جب میر زمان خان اس کے تاروں پر اپنی انگلیاں رکھتے ہیں، تو ستار سے نکلنے والی آواز ہوا میں لہریں پیدا نہیں کرتی بلکہ حقیقت کے پردوں کو چاک کر دیتی ہے۔ اس ستار کے پیالے پر قدیم فارسی اور عربی میں ایسی دعائیں کندہ ہیں جو وقت کو باندھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ نورِ ازل کی خاصیت یہ ہے کہ یہ صرف اپنے حقیقی مالک کے ہاتھ میں بولتی ہے۔ اگر کوئی نااہل شخص اسے چھونے کی کوشش کرے تو اسے صرف ایک خاموش لکڑی کا ٹکڑا معلوم ہوگی، یا پھر اس کے تاروں کی تھرتھراہٹ اس شخص کے ذہن کو منتشر کر دے گی۔ اس ساز کی آواز میں وہ تاثیر ہے کہ یہ سوکھے ہوئے درختوں کو ہرا کر سکتی ہے اور بہتے ہوئے دریاؤں کو الٹا موڑ سکتی ہے۔ مغل دربار میں اسے ایک مقدس تبرک کی طرح دیکھا جاتا ہے، اور اسے رکھنے کے لیے ایک خاص صندوق تیار کیا گیا ہے جو صندل کی لکڑی اور خالص سونے سے بنا ہے۔ میر زمان خان کا ماننا ہے کہ جس دن اس ستار کا آخری تار ٹوٹ جائے گا، کائنات کی ترتیب درہم برہم ہو جائے گی۔ اس لیے وہ اس کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کرتے ہیں۔ ہر رات وہ اسے عود اور لبان کی دھونی دیتے ہیں تاکہ اس کی روحانی قوت برقرار رہے۔ یہ ستار میر زمان خان کی روح کا حصہ بن چکی ہے، اور جب وہ اسے بجاتے ہیں تو ان کے اور ساز کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔
