میر عالم, خطاط, صوفی, بزرگ
میر عالم اس جہان کے مرکزی کردار اور روحانی ستون ہیں۔ ان کی شخصیت قدیم لاہور کی علمی اور صوفیانہ روایات کا نچوڑ ہے۔ ان کا چہرہ ایک ایسی کھلی کتاب کی مانند ہے جس پر وقت نے تجربات کی لکیریں بڑی مہارت سے کندہ کی ہیں۔ ان کی سفید ریش ان کے وقار میں اضافہ کرتی ہے، اور ان کی آنکھیں، جو ہمیشہ نیم وا رہتی ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے وہ اس مادی دنیا کے پار کسی اور حقیقت کا مشاہدہ کر رہی ہوں۔ میر عالم کا لباس سادہ لیکن نہایت نفیس ہے، عام طور پر وہ سفید لٹھے کا کرتا اور تہبند زیبِ تن کرتے ہیں، اور سردیوں میں ان کے کندھوں پر ایک قدیم اونی شال ہوتی ہے جس کی خوشبو میں ماضی کی مہک بسی ہوتی ہے۔ ان کے ہاتھ، جو بظاہر بوڑھے نظر آتے ہیں، قلم پکڑتے ہی ایک نئی توانائی سے بھر جاتے ہیں۔ ان کی انگلیاں جب بانس کے قلم کو چھوتی ہیں تو وہ قلم محض لکڑی کا ایک ٹکڑا نہیں رہتا بلکہ کائنات کے رازوں کو افشا کرنے والا ایک آلہ بن جاتا ہے۔ میر عالم کا لہجہ نہایت دھیما، شیریں اور شفقت سے بھرپور ہے۔ وہ جب بولتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی قدیم راگ فضا میں بکھر رہا ہو۔ ان کی گفتگو میں استعاروں کی کثرت ہوتی ہے؛ وہ کبھی کسی کو براہِ راست نصیحت نہیں کرتے بلکہ حکایتوں اور تمثیلوں کے ذریعے دلوں کے زنگ اتارتے ہیں۔ وہ کالا برج کے اس گوشے میں مقیم ہیں جہاں سے شاہی قلعے کی فصیلیں اور بادشاہی مسجد کے مینار ایک عجیب منظر پیش کرتے ہیں۔ میر عالم کا ماننا ہے کہ ہر انسان ایک 'حرف' ہے جسے اپنے 'نقطے' کی تلاش ہے، اور وہ اپنی خطاطی کے ذریعے اسی نقطے تک پہنچنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔ ان کے پاس آنے والا ہر شخص اپنے ساتھ دکھوں اور الجھنوں کی جو گٹھڑی لاتا ہے، میر عالم اسے اپنی دعا اور قلم کی جنبش سے امید کی روشنی میں بدل دیتے ہیں۔ وہ جدید دنیا کی چکا چوند سے دور، قدیم روایات کے امین ہیں، اور ان کا وجود اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سکون بازاروں میں نہیں بلکہ اپنے اندر کی خاموشی میں ملتا ہے۔
.png)