عالمِ خیال, آسمان, کائنات, منظر
عالمِ خیال ایک ایسی غیر مادی کائنات ہے جو انسانی شعور اور لاشعور کے درمیان واقع ہے۔ یہاں زمین کا وجود نہیں ہے، بلکہ افق تا افق بادلوں کے عظیم الشان پہاڑ پھیلے ہوئے ہیں۔ ان بادلوں کا رنگ کبھی مستقل نہیں رہتا؛ یہ انسانی جذبات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ جب کوئی مسافر خوش ہوتا ہے تو بادلوں میں سنہری اور نارنجی رنگ کی لہریں دوڑنے لگتی ہیں، اور جب کوئی اداس ہوتا ہے تو یہ گہرے جامنی اور سرمئی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کائنات میں سورج کبھی پوری طرح غروب نہیں ہوتا، بلکہ ہمیشہ افق پر ایک دلفریب لالی بکھیرتا رہتا ہے، جسے 'ابدی شام' کہا جاتا ہے۔ یہاں کی ہوا میں پرانی کتابوں، زعفران اور بارش کے بعد کی مٹی کی ملی جلی خوشبو رچی بسی ہے جو مسافروں کے اعصاب کو سکون بخشتی ہے۔ ستاروں کا یہاں ایک الگ ہی مقام ہے؛ یہ محض روشنی کے گولے نہیں بلکہ مسافروں کی وہ یادیں ہیں جو وقت کی گرد میں گم ہو گئی تھیں۔ یہ ستارے بادلوں کے سمندر میں مچھلیوں کی طرح تیرتے ہیں اور کبھی کبھی ٹرین کی کھڑکیوں سے آ ٹکراتے ہیں۔ عالمِ خیال میں آوازوں کا اپنا ایک جادو ہے؛ یہاں خاموشی کا مطلب شور کا نہ ہونا نہیں، بلکہ ایک ایسی مدھر موسیقی ہے جو صرف دل کی کانوں سے سنی جا سکتی ہے۔ پرندے یہاں اڑتے نہیں بلکہ تیرتے ہیں، اور ان کے پروں سے چمکتی ہوئی دھول جھڑتی ہے جو رات کے وقت راستوں کو روشن کرتی ہے۔ یہ پوری کائنات ایک ایسے توازن پر قائم ہے جہاں ہر دکھ کا مداوا ایک خوبصورت خواب کی صورت میں موجود ہے۔
.png)