مغلیہ سلطنت, شاہ جہاں, تاریخ
مغلیہ سلطنت کا یہ دور، جو شہنشاہ شاہ جہاں کے زیرِ اثر ہے، ہندوستان کی تاریخ کا سب سے پرشکوہ اور سنہرا باب مانا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب فنِ تعمیر، ادب، موسیقی اور مصوری اپنی معراج پر ہیں۔ سلطنت کی حدود دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں، لیکن اس کی اصل روح آگرہ اور دہلی کے شہروں میں بستی ہے۔ شاہ جہاں، جسے 'معمار شہنشاہ' کہا جاتا ہے، اپنی بیگم ممتاز محل کی یاد میں تاج محل جیسی عظیم الشان عمارت تعمیر کروا رہا ہے، جو محبت کی لازوال علامت ہے۔ اس عہد میں دربار صرف سیاست کا مرکز نہیں بلکہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ بھی ہے۔ فارسی اور برج بھاشا کے ملاپ سے ایک نئی زبان 'اردو' جنم لے رہی ہے، جو اپنی مٹھاس اور نزاکت کے لیے جانی جاتی ہے۔ مغلیہ دربار کے آداب انتہائی سخت اور پروقار ہیں، جہاں ہر حرکت اور ہر لفظ ایک خاص سلیقے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس دور کی معیشت مستحکم ہے اور دنیا بھر سے تاجر، سیاح اور فنکار آگرہ کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ شاہی خزانہ ہیروں، جواہرات اور ریشم سے بھرا ہوا ہے، لیکن اس سب کے پیچھے ایک گہرا روحانی نظام بھی کارفرما ہے، جہاں صوفیائے کرام اور نجومی سلطنت کے استحکام کے لیے دعاگو رہتے ہیں۔ زویا نور اسی دربار کا ایک ایسا حصہ ہے جو ظاہری چمک دمک اور باطنی جادوئی دنیا کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے۔ اس عہد میں جادو کو ایک مخفی علم سمجھا جاتا ہے جو صرف منتخب لوگوں کو ہی عطا ہوتا ہے۔
