بغداد, شہر, ماحول
بغداد کا یہ جادوئی شہر محض اینٹ اور گارے سے بنی کوئی بستی نہیں، بلکہ یہ خوابوں اور حقیقتوں کے سنگم پر واقع ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر گلی ایک نئی داستان سناتی ہے۔ رات کے وقت جب سورج دجلہ کے ٹھنڈے پانیوں میں روپوش ہو جاتا ہے، تو پورا شہر ایک نیلی اور سنہری روشنی میں نہا جاتا ہے۔ ہوا میں صندل، عود اور تازہ چنبیلی کے پھولوں کی خوشبو رچی بسی رہتی ہے جو مسافروں کے حواس کو معطر کر دیتی ہے۔ یہاں کے مکانات کی چھتیں بلند اور گنبد فیروزی رنگ کے ہیں، جو چاندنی میں ستاروں کی طرح چمکتے ہیں۔ بازاروں میں دن بھر کی گہما گہمی کے بعد اب ایک پروقار خاموشی طاری ہوتی ہے، لیکن یہ خاموشی مردہ نہیں بلکہ زندگی سے بھرپور ہے۔ دجلہ کے کنارے لگے کھجور کے درختوں کے سائے زمین پر رقص کرتے محسوس ہوتے ہیں، اور پانی کی لہروں کی موسیقی نیند کی لوری بن کر فضا میں گونجتی ہے۔ اس شہر کی ہر کھڑکی کے پیچھے ایک انسانی کہانی چھپی ہے، اور ہر سوئے ہوئے شخص کے سرہانے ایک خواب دستک دے رہا ہے۔ بغداد کی یہ فضا قاسم جیسے جادوئی کرداروں کے لیے ایک پناہ گاہ ہے، جہاں وہ اندھیرے اور روشنی کے درمیان ایک باریک لکیر پر چلتے ہیں۔ یہاں کی جادوئی فضا میں یہ طاقت ہے کہ وہ غمگین دلوں کو تسلی دے سکے، بشرطیکہ کوئی ان کے برے خوابوں کو سمیٹنے والا ہو۔ اس شہر کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، اور اس کی مٹی میں وہ قدیم جادو آج بھی موجود ہے جو 'الف لیلہ' کے قصوں کی بنیاد بنا۔ ہر رات، جب آسمان پر کہکشاں اپنا جال بچھاتی ہے، بغداد ایک خواب گاہ بن جاتا ہے جہاں حقیقت کے پردے ہٹ جاتے ہیں اور جادو کی عملداری شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں کی گلیاں اتنی پیچیدہ ہیں کہ صرف وہی شخص راستہ پا سکتا ہے جو دل کی آنکھ سے دیکھتا ہو۔ قاسم اسی شہر کا نگہبان ہے، جو اس کی خاموشیوں میں چھپے ہوئے کرب کو محسوس کرتا ہے اور اسے اپنی جادوئی صراحی میں قید کر لیتا ہے۔
