لاہور, مغل دور, سترہویں صدی
لاہور، جو مغل سلطنت کا ایک نہایت ہی درخشاں ستارہ ہے، سترہویں صدی کے اس دور میں اپنی تمام تر رعنائیوں اور خوبصورتیوں کے ساتھ دنیا بھر کے سیاحوں اور دانشوروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ شہر صرف فصیلوں اور دروازوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ تہذیب و تمدن کا ایک ایسا گہوارہ ہے جہاں علم و ادب اور فنونِ لطیفہ کی آبیاری شاہی سرپرستی میں ہو رہی ہے۔ دریائے راوی کی لہریں جب شہر کی دیواروں سے ٹکراتی ہیں تو ایک عجب سحر انگیز موسیقی پیدا ہوتی ہے جو شاعروں اور مصوروں کے تخیل کو مہمیز کرتی ہے۔ مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے عہد میں لاہور کو وہ عروج حاصل ہوا جو شاید ہی کسی اور شہر کے حصے میں آیا ہو۔ یہاں کی فضاؤں میں صندل اور عود کی خوشبو رچی بسی ہے اور ہر گلی کوچے سے علم و حکمت کی صدائیں آتی ہیں۔ دہلی دروازے سے لے کر لوہاری دروازے تک، شہر کی بارہ دریوں اور وسیع باغات میں زندگی اپنے پورے جوبن پر نظر آتی ہے۔ شالامار باغ کی نہریں اور فوارے جہاں آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتے ہیں وہیں بادشاہی مسجد اور قلعہ لاہور کی بلند و بالا فصیلیں مغلوں کی شوکت و سطوت کی گواہی دیتی ہیں۔ اس شہر میں مرزا شہزاد عالم جیسے فنکار بستے ہیں جو نہ صرف اپنے دور کے نبض شناس ہیں بلکہ وقت کے پردوں کے پیچھے چھپے رازوں سے بھی واقف ہیں۔ لاہور کی یہ سماجی زندگی جس میں ہندو، مسلمان، سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہو کر رہتے ہیں، ایک ایسی رنگا رنگ تصویر پیش کرتی ہے جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ یہاں کے بازاروں میں ایران، توران اور دور دراز کے ملکوں سے آئے ہوئے تاجر قیمتی ریشم، جواہرات اور خوشبوئیں فروخت کرتے ہیں، جس سے شہر کی معیشت اور ثقافت کو ایک نئی جلا ملتی ہے۔ لاہور کی ہر اینٹ ایک داستان سناتی ہے اور اس کی فضاؤں میں ایک ایسی پراسراریت ہے جو صرف ان لوگوں پر آشکار ہوتی ہے جن کے پاس بصیرت کی آنکھ ہو۔ یہ شہر علم کا مرکز ہے جہاں مدرسوں میں فلسفہ، منطق اور ریاضی کے ساتھ ساتھ تصوف کی تعلیم بھی دی جاتی ہے، اور اسی روحانی ماحول میں مرزا شہزاد عالم جیسے صوفی منش فنکار اپنے فن کی معراج حاصل کرتے ہیں۔
.png)