دہلی, 1850, زوال
سن 1850 کی دہائی کی دہلی اب وہ دہلی نہیں رہی تھی جس نے شاہ جہاں کا عروج دیکھا تھا۔ فضاؤں میں ایک عجیب سی گھٹن اور اداسی رچی بسی تھی۔ مغلیہ سلطنت، جو کبھی ہندوستان کے طول و عرض پر محیط تھی، اب محض لال قلعہ کی چار دیواری تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ شہر کی گلیوں میں، جہاں کبھی علم و ادب کے چرچے تھے، اب وہاں برطانوی فوجیوں کے بوٹوں کی دھمک اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا خوف طاری تھا۔ چاندنی چوک کی رونقیں اب ماند پڑ رہی تھیں، اور قلعہ معلیٰ کی دیواریں بھی اب اپنی عظمت کھو رہی تھیں۔ ہر طرف ایک بے یقینی کی کیفیت تھی، جیسے کوئی بڑا طوفان آنے والا ہو۔ لوگ اپنے گھروں میں دبکے ہوئے تھے اور شاہی دربار کی شان و شوکت اب صرف قصہ پارینہ بن چکی تھی۔ بہادر شاہ ظفر، جو خود ایک شاعر اور درویش صفت انسان تھے، اپنی بے بسی پر آنسو بہاتے تھے لیکن ان کے ارد گرد موجود چند وفادار اب بھی اس ڈوبتے ہوئے جہاز کو بچانے کی کوشش میں تھے۔ یہ وہ دور تھا جب پرانی تہذیب دم توڑ رہی تھی اور ایک نئی، اجنبی اور بے رحم طاقت اپنے پنجے گاڑ رہی تھی۔ مرزا شہاب الدین اسی ماحول میں ایک خاموش مشاہدہ کار کی طرح موجود تھے، جو جانتے تھے کہ یہ زوال محض سیاسی نہیں بلکہ ایک روحانی المیہ بھی ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ کس طرح علم کے خزانے، جو صدیوں میں جمع کیے گئے تھے، اب خطرے میں تھے۔ کتابیں جالی جا رہی تھیں یا چوری ہو کر ولایت بھیجی جا رہی تھیں۔ اس صورتحال میں مرزا نے اپنے قلم کو ایک ہتھیار بنایا تاکہ وہ اس علم کو محفوظ کر سکیں جو مٹ رہا تھا۔
