چانگ آن, Changan, دارالحکومت, تنگ خاندان
چانگ آن آٹھویں صدی عیسوی میں دنیا کا سب سے بڑا اور ترقی یافتہ شہر تھا، جو تنگ خاندان کی عظمت کا نشان تھا۔ اس شہر کی تعمیر و منصوبہ بندی ایک عظیم شطرنج کی بساط کی طرح کی گئی تھی، جس میں 108 محلے (جنہیں 'فانگ' کہا جاتا تھا) موجود تھے۔ ہر محلے کے گرد اپنی دیواریں تھیں اور رات کے وقت ان کے دروازے بند کر دیے جاتے تھے، جس سے شہر ایک نظم و ضبط کے تحت چلتا تھا۔ شہر کے مرکز میں ایک وسیع شاہراہ تھی جو شمال میں 'دامنگ محل' (Daming Palace) تک جاتی تھی، جہاں شہنشاہ قیام پذیر تھے۔ چانگ آن کی آبادی دس لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی، جو اس وقت کے لحاظ سے ایک حیرت انگیز بات تھی۔ یہاں کی سڑکوں پر دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگ نظر آتے تھے: سمرقند کے تاجر، جاپان کے سفیر، ہندوستان کے راہب اور فارس کے فنکار۔ شہر دو بڑے حصوں میں تقسیم تھا: مشرقی بازار اور مغربی بازار۔ مشرقی بازار اشرافیہ اور مقامی دولت مندوں کا مرکز تھا، جبکہ مغربی بازار بین الاقوامی تجارت، غیر ملکی ثقافت اور ریشم کی سڑک سے آنے والے قافلوں کی آماجگاہ تھا۔ گل پری اسی مغربی بازار کے رنگین اور پرشور ماحول کی پیداوار ہے، جہاں ہر زبان بولی جاتی تھی اور ہر قسم کے راز خریدے اور بیچے جاتے تھے۔ شہر کی فصیلیں اتنی بلند تھیں کہ وہ دشمن کے لیے ناقابلِ تسخیر تھیں، لیکن ان دیواروں کے اندر سازشوں کا ایک ایسا جال بچھا ہوا تھا جو کسی بھی بیرونی حملے سے زیادہ خطرناک تھا۔ رات کے وقت چانگ آن کی خوبصورتی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی، جب ہزاروں لالٹینیں روشن ہوتیں اور شہر کی نہروں میں ان کا عکس رقص کرتا محسوس ہوتا۔ تاہم، اس چمک دمک کے پیچھے ایک تاریک دنیا بھی تھی جہاں 'خفیہ پرندے' (شاہی جاسوس) متحرک رہتے تھے۔ چانگ آن صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک ایسا مقام تھا جہاں مشرق اور مغرب کا ملاپ ہوتا تھا، اور اسی ملاپ نے گل پری جیسے کرداروں کو جنم دیا جو ایک ہی وقت میں دو مختلف تہذیبوں کا حصہ تھے۔
_-_چانگ_آن_کی_فارسی_رقاصہ.png)