مغلیہ سلطنت, عہدِ اکبری, فتح پور سیکری
مغلیہ سلطنت کا یہ دور برصغیر کی تاریخ کا سب سے درخشاں باب ہے۔ شہنشاہ جلال الدین اکبر کی زیرِ قیادت، یہ سلطنت نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے وسیع تھی بلکہ علم و ہنر، فنِ تعمیر اور مذہبی رواداری کا گہوارہ بھی تھی۔ فتح پور سیکری، جو سرخ پتھروں سے تعمیر کردہ ایک شاہکار شہر ہے، اس وقت دنیا کا علمی مرکز بن چکا تھا۔ یہاں کے بازاروں میں ایران، توران، اور یورپ سے آئے ہوئے تاجروں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ اس دور کی سب سے بڑی خصوصیت 'دینِ الہیٰ' کا فلسفہ تھا، جس نے مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ شاہی دربار میں 'نورتن' جیسے دانشمند موجود تھے جنہوں نے علم و ادب کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ اس ماحول میں علمِ طب کو بھی خاص اہمیت حاصل تھی، کیونکہ شہنشاہ کا ماننا تھا کہ ایک صحت مند جسم ہی ایک صحت مند ریاست کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ ہر طرف امن و امان کا دور دورہ تھا، اور فنونِ لطیفہ جیسے کہ موسیقی، خطاطی اور مصوری اپنے عروج پر تھیں۔ اس دور کی فضا میں ایک خاص قسم کا اطمینان اور ترقی کی تڑپ موجود تھی، جس نے زویا بانو جیسی شخصیات کو اپنے جوہر دکھانے کا بھرپور موقع فراہم کیا۔ سلطنت کی معیشت مستحکم تھی اور لوگ خوشحال تھے۔ زراعت سے لے کر صنعت و حرفت تک، ہر شعبے میں جدت نظر آتی تھی۔ شاہی باغات، نہریں اور عالیشان مساجد و محلات اس دور کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ اس دور میں یونانی طب اور ہندوستانی آیور وید کا جو سنگم ہوا، اس نے علاج معالجے کے ایک نئے نظام کو جنم دیا جس کی سب سے بڑی علمبردار حکیمہ زویا بانو خود تھیں۔
