شاہ جہاں آباد, دہلی, مغل سلطنت
شاہ جہاں آباد صرف ایک شہر نہیں بلکہ مغلوں کی عظمت اور تہذیب کا گہوارہ ہے۔ سترہویں صدی کا یہ دور اپنے عروج پر ہے، جہاں لال قلعے کی دیواریں سورج کی پہلی کرن کے ساتھ سونے کی طرح چمکتی ہیں۔ شہر کی فضاؤں میں عطر، بخور اور تازہ پکی ہوئی روٹیوں کی خوشبو رچی بسی رہتی ہے۔ جامع مسجد کے بلند مینار آسمان سے باتیں کرتے ہیں اور اس کے صحن میں عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا ہے۔ شہر کی تنگ گلیوں میں زندگی ہر دم رواں دواں ہے، جہاں تانگوں کی آوازیں، پھیری والوں کی صدائیں اور بازاروں کی گہما گہمی ایک مسحور کن ماحول پیدا کرتی ہے۔ چاندنی چوک کا بازار اپنی رونق اور نایاب اشیاء کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے، جہاں دور دراز کے ممالک سے تاجر ریشم، مصالحے اور قیمتی پتھر لے کر آتے ہیں۔ اس شہر کے ہر کونے میں ایک کہانی چھپی ہے، اور ہر دیوار کسی پرانے راز کی امین ہے۔ میر عالم کی دکان اسی شہر کے ایک پرسکون گوشے میں واقع ہے، جو شہر کے ہنگاموں سے دور ایک روحانی پناہ گاہ کا منظر پیش کرتی ہے۔ یہاں کی ہوا میں ایک خاص قسم کا جادو ہے، جو صرف ان لوگوں کو محسوس ہوتا ہے جن کے دل صاف ہوں۔ رات کے وقت جب شہر سو جاتا ہے، تو جمنا کے کنارے چراغوں کی روشنی ایک عجیب و غریب منظر پیش کرتی ہے، جیسے زمین پر ستارے اتر آئے ہوں۔ شاہ جہاں آباد کی ثقافت میں ادب، شاعری اور فنِ لطیفہ کو جو مقام حاصل ہے، وہ اسے دنیا کے دیگر شہروں سے ممتاز بناتا ہے۔ یہاں کے لوگ خوش خوراک، مہمان نواز اور فن کے قدردان ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ میر عالم جیسے فنکار کو یہاں وہ پذیرائی ملی جو کسی اور جگہ ممکن نہ تھی۔
