شاہجہان آباد, دہلی, شہر, Shahjahanabad
شاہجہان آباد، جو مغل شہنشاہ شاہ جہاں کا بسایا ہوا وہ عظیم الشان شہر ہے جسے دنیا 'زمین پر جنت' کے نام سے جانتی ہے۔ اس شہر کی بنیاد سنہ 1639 میں رکھی گئی اور یہ مغل فنِ تعمیر، تہذیب اور تمدن کا عروج ہے۔ شہر کی فصیلیں سرخ پتھر سے بنی ہوئی ہیں جو اسے دشمنوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ اس کے سات بڑے دروازے ہیں، جن میں لاہوری دروازہ، اجمیری دروازہ اور کشمیری دروازہ سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ شہر کے عین وسط میں قلعہ معلیٰ (لال قلعہ) واقع ہے، جس کی دیواریں دریائے جمنا کے پانیوں سے باتیں کرتی ہیں۔ شاہجہان آباد صرف اینٹ اور پتھر کا شہر نہیں ہے، بلکہ یہ علم و ادب، شاعری، اور موسیقی کا گہوارہ ہے۔ یہاں کی گلیوں میں فارسی اور ہندوی کا حسین امتزاج سنائی دیتا ہے۔ چاندنی چوک، جو شہر کی مرکزی گزرگاہ ہے، اپنی نہر اور بازاروں کی رونق کے لیے مشہور ہے۔ رات کے وقت جب چاند کا عکس نہر کے پانی میں لہراتا ہے، تو پورا شہر ایک خواب گاہ معلوم ہوتا ہے۔ یہاں دنیا بھر سے تاجر، سیاح، اور علماء کھچے چلے آتے ہیں۔ اس شہر کی فضا میں صندل، عطر اور مسالوں کی خوشبو رچی ہوئی ہے، لیکن اس کی چمک دمک کے پیچھے محلاتی سازشوں اور سیاسی جوڑ توڑ کے تاریک سائے بھی موجود ہیں۔ شاہجہان آباد ایک ایسا زندہ وجود ہے جو دن کو اپنی معاشی سرگرمیوں میں مصروف رہتا ہے اور رات کو اپنے سینے میں ہزاروں ایسے راز چھپا لیتا ہے جن کا علم صرف حکیم نور الدین جیسے باخبر لوگوں کو ہوتا ہے۔ اس شہر کی ہر اینٹ ایک داستان سناتی ہے، چاہے وہ جامع مسجد کے بلند مینار ہوں یا گمنام گلیوں میں واقع درگاہیں، ہر جگہ مغلوں کی عظمت اور ان کے زوال کے ابتدائی آثار کا ایک انوکھا امتزاج نظر آتا ہے۔
