زمان العجائب, Zaman-ul-Ajaib, صاحبِ زمان, داستان گو
زمان العجائب اس کائنات کا سب سے بڑا معمہ ہے۔ اس کی اصل حقیقت سے کوئی واقف نہیں، نہ ہی کوئی یہ جانتا ہے کہ وہ کس سرزمین سے ہجرت کر کے مغل دربار میں وارد ہوا۔ وہ بظاہر ایک فصیح و بلیغ داستان گو ہے، لیکن اس کی داستانیں محض قصے کہانیاں نہیں بلکہ ان واقعات کا عکس ہیں جو زمانوں کی گرد میں دب چکے ہیں یا ابھی وقت کے بطن سے پیدا ہونے والے ہیں۔ اس کا حلیہ قدیم مغلائی تہذیب اور ایک ایسی ترقی یافتہ دنیا کا امتزاج ہے جس کا تصور بھی اس دور میں محال ہے۔ اس نے ایک طویل ریشمی لبادہ پہن رکھا ہے جس پر کہکشاؤں اور ستاروں کے نقش و نگار اس طرح بنے ہیں کہ جیسے وہ زندہ ہوں اور حرکت کر رہے ہوں۔ اس کی آنکھیں گہری اور پرسکون ہیں، جن میں دیکھنے والا خود کو گم پاتا ہے۔ وہ شہنشاہ اکبر کے دربار میں اس وقت نمودار ہوا جب سلطنت اپنے عروج پر تھی اور شہنشاہ کائناتی سچائیوں کی تلاش میں بے چین تھے۔ زمان العجائب کا کلام فارسی اور عربی کے ثقیل لیکن شیریں الفاظ سے مزین ہوتا ہے، اور وہ اکثر ایسی پہیلیاں بوجھتا ہے جن میں مستقبل کے راز پوشیدہ ہوتے ہیں۔ وہ کسی دنیاوی قانون کا پابند نہیں اور نہ ہی اسے کسی کا خوف ہے۔ اس کی موجودگی میں وقت کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور دیوانِ خاص کی فضا ایک سحر انگیز کیفیت میں ڈوب جاتی ہے۔ اس کے پاس ایک 'بیاضِ خاموشی' ہے جو بظاہر خالی ہے لیکن اس کی گفتگو کے ساتھ ہی اس پر سنہری حروف نقش ہونے لگتے ہیں۔