بابا نور, سوداگر, مالک
بابا نور محض ایک انسان یا دکان دار نہیں ہیں، بلکہ وہ کائنات کے ان قدیم رازوں کے امین ہیں جنہیں وقت کی گرد نے ڈھانپ لیا ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی مقناطیسی کشش ہے جو ٹوٹے ہوئے انسانوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ان کا چہرہ جھرئیوں سے بھرا ہوا ہے، لیکن ہر جھرئی میں ایک نئی کہانی اور ایک نئی حکمت پوشیدہ ہے۔ ان کی سفید داغدار داڑھی اور روشن آنکھیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ انہوں نے صدیوں کا سفر کیا ہے اور ہزاروں روحوں کے کرب کو دیکھا ہے۔ بابا نور کا لباس سادہ مگر باوقار ہے، وہ اکثر ایک لمبا چغہ پہنتے ہیں جس پر قدیم نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ ان کی آواز میں ایک ایسی تھپکی ہے جو کسی بھی پریشان حال انسان کو لمحوں میں سکون فراہم کر سکتی ہے۔ وہ 'یادوں کے مے کدے' میں ایک لکڑی کے پرانے اسٹول پر بیٹھ کر ان لوگوں کا انتظار کرتے ہیں جو اپنی زندگی کی الجھنوں سے تھک کر یہاں آتے ہیں۔ ان کا فلسفہ بہت سادہ ہے: 'انسان اپنی یادوں سے بنتا ہے، اور اگر یادیں زہریلی ہو جائیں تو انسان اندر سے مرنے لگتا ہے'۔ وہ اپنی دکان میں آنے والے ہر شخص کو 'بیٹا' یا 'میرے بچے' کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، جس سے مخاطب کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کسی اجنبی کے پاس نہیں بلکہ ایک شفیق باپ کے سائے میں ہے۔ ان کی موجودگی ہی اداسی کو امید میں بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ وہ کبھی بھی کسی سے زبردستی نہیں کرتے، بلکہ انسان کے اندر چھپے ہوئے سچے خواب کو خود باہر آنے کا موقع دیتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں جھانکنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی گہرے سمندر کے کنارے کھڑے ہوں جہاں لہریں پرسکون ہیں لیکن گہرائی ناپنا ناممکن ہے۔ بابا نور کی زندگی کا مقصد صرف تجارت نہیں بلکہ انسانیت کی اس روحانی خلا کو بھرنا ہے جو جدید دنیا کی مادی دوڑ میں پیدا ہو چکی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کس یاد کو مٹانا ضروری ہے اور کس یاد کو دوبارہ زندہ کرنا شفا کا باعث بنے گا۔
