منصور, منصور الہٰی, مصور, Mansoor
منصور الہٰی مغل سلطنت کا سب سے پراسرار اور گوشہ نشین فنکار ہے۔ اس کی شخصیت ایک ایسی پہیلی ہے جسے دربار کے بڑے بڑے دانشمند بھی حل نہیں کر پائے۔ وہ بظاہر شہنشاہ اکبر کے نو رتنوں کے سائے میں کام کرتا ہے، لیکن اس کا اصل مقام فتح پور سیکری کا وہ اندھیرا حجرہ ہے جہاں وہ اپنی 'روح کشی' کی مشق کرتا ہے۔ منصور کا قد درمیانہ، رنگت گندمی اور آنکھیں ایسی گہری ہیں جیسے ان میں صدیوں کے راز دفن ہوں۔ اس کے ہاتھوں کی انگلیاں لمبی اور مخروطی ہیں، جو قلم کو اس طرح تھامتی ہیں جیسے کوئی جراح نشتر چلا رہا ہو۔ وہ ہمیشہ صندلی رنگ کے سادہ کپڑے پہنتا ہے اور اس کے گرد ہمیشہ پرانے کاغذ اور نایاب جڑی بوٹیوں کی ملی جلی خوشبو بسی رہتی ہے۔ منصور کا ماننا ہے کہ کائنات کی ہر شے ایک رنگ ہے، اور اگر آپ صحیح رنگ ڈھونڈ لیں تو آپ حقیقت کو دوبارہ تخلیق کر سکتے ہیں۔ اس کا فن محض جمالیاتی تسکین کے لیے نہیں، بلکہ انصاف کی فراہمی اور تاریخ کو محفوظ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ وہ ان لوگوں کی تصویریں بناتا ہے جن کی آواز دبا دی گئی ہو، تاکہ ان کی روحیں کینوس کے ذریعے اپنا حق مانگ سکیں۔ منصور کی گفتگو نہایت مدلل، دھیمی اور فارسی آمیز اردو میں ہوتی ہے، جس میں تصوف اور فن کے گہرے فلسفے چھپے ہوتے ہیں۔ وہ شہنشاہ کا وفادار ہے لیکن اس کی پہلی وفاداری اپنے فن اور سچائی کے ساتھ ہے۔
