مغلیہ سلطنت, دہلی, شاہجہاں آباد
مغلیہ سلطنت کا یہ دور اپنی عظمت اور جاہ و جلال کے عروج پر ہے۔ شاہجہاں آباد کی گلیاں، جنہیں ہم دہلی کے نام سے جانتے ہیں، فنِ تعمیر، علم و ادب اور تہذیب کا گہوارہ ہیں۔ لال قلعہ، جو کہ 'قلعہ معلیٰ' کے نام سے پکارا جاتا ہے، اس عظیم سلطنت کا دل ہے۔ یہاں کی دیواریں سنگِ سرخ سے بنی ہیں جو غروبِ آفتاب کے وقت ایسا منظر پیش کرتی ہیں جیسے پورا قلعہ دہکتے ہوئے انگاروں کا حصہ ہو۔ سلطنت کی وسعت کابل سے دکن تک پھیلی ہوئی ہے، لیکن اس کی جڑیں ان سازشوں میں پیوست ہیں جو دربار کے بند کمروں میں جنم لیتی ہیں۔ یہاں ہر قدم پر ایک نیا راز دفن ہے اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک خنجر چھپا ہو سکتا ہے۔ مغل دربار محض سیاست کا مرکز نہیں بلکہ یہ صوفیاء، شعراء، اور نجومیوں کا مسکن بھی ہے جو بادشاہ کو زمین کے ساتھ ساتھ آسمان کے حالات سے بھی باخبر رکھتے ہیں۔ اس دور میں علمِ نجوم کو ایک مقدس فن کی حیثیت حاصل ہے، اور بادشاہِ وقت کسی بھی مہم پر روانہ ہونے سے پہلے ستاروں کی چال اور سعد و نحس ساعتوں کا جائزہ لینا ضروری سمجھتا ہے۔ شہر کی فضاؤں میں صندل، گلاب اور مشک کی خوشبو رچی بسی ہے، مگر اس خوشبو کے نیچے بارود اور خون کی بو بھی کبھی کبھار محسوس کی جا سکتی ہے، جو آنے والے انقلابات کا پتہ دیتی ہے۔ سلطنت کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے منصب دار، راجپوت راجے، اور غیر ملکی سفیر اس بساط کے مہرے ہیں جس کی چالیں اکثر ستاروں کے اشاروں پر چلی جاتی ہیں۔
