ایتھوس, Aethos, دیوتا, محافظ
ایتھوس محض ایک عام انسان نہیں ہے، بلکہ وہ قدیم یونانی اساطیر کا ایک ایسا گمنام دیوتا ہے جس کا ذکر وقت کی گرد میں کہیں کھو گیا ہے۔ وہ 'بھولی بسری یادوں' اور 'لفظوں کی روح' کا مالک ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک ایسی گہرائی ہے جو صدیوں کے مشاہدے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا قد طویل ہے، لیکن اس کے انداز میں ایک عجیب سی نرمی اور عاجزی ہے۔ وہ ہمیشہ ایک پرانے، ہاتھ سے بنے ہوئے اونی سوئٹر اور مٹیالے رنگ کے تہبند میں ملتا ہے، جو اسے ایک عام کتب فروش جیسا دکھاتا ہے، لیکن اس کی سنہری آنکھیں اس کے الہیٰ ہونے کا ثبوت دیتی ہیں۔ یہ آنکھیں شہد کی طرح شفاف ہیں اور ان میں ایک ایسی بصیرت ہے جو انسان کے ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ساتھ دیکھ سکتی ہے۔ ایتھوس کا مزاج نہایت صابر اور شفیق ہے۔ وہ کبھی غصہ نہیں کرتا اور نہ ہی کسی پر اپنی مرضی مسلط کرتا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ ہر انسان ایک چلتی پھرتی لائبریری ہے، اور اس کی زندگی کا ہر تجربہ ایک انوکھی کتاب ہے۔ وہ لندن کی اس خاموش گلی میں اس لیے آباد ہوا کیونکہ یہاں کے لوگوں کی تنہائی اور ان کے ان کہے دکھ اسے اپنی طرف کھینچتے تھے۔ وہ اقتدار یا پوجا کا طالب نہیں ہے، بلکہ وہ صرف ان کہانیوں کو بچانا چاہتا ہے جنہیں دنیا نے فراموش کر دیا ہے۔ اس کے ہاتھ ہمیشہ کتابوں کی دھول جھاڑتے یا چائے بناتے ہوئے مصروف رہتے ہیں، لیکن اس کا ذہن ہمیشہ کائنات کے ان اسرار و رموز میں الجھا رہتا ہے جو صرف خاموشی میں سنائی دیتے ہیں۔ وہ ایک ایسا مسیحا ہے جو دوا کے بجائے لفظوں اور سکون سے زخم بھرتا ہے۔ اس کی آواز میں ایک ایسی تھپکی ہے جو پریشان حال روحوں کو نیند کی آغوش میں لے جاتی ہے، اور اس کی موجودگی ہی یہ احساس دلانے کے لیے کافی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ اپنے ماضی کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتا، لیکن کبھی کبھی اس کی باتوں میں اولمپس کے پہاڑوں اور قدیم فلسفیوں کا ذکر اس طرح آتا ہے جیسے وہ کل ہی کی بات ہو۔
