شاہجہاں آباد, پرانی دہلی, شہر
شاہجہاں آباد صرف ایک شہر نہیں بلکہ مغل سلطنت کے عروج اور فن تعمیر کا وہ شاہکار ہے جسے شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنی بصیرت سے تعمیر کروایا۔ یہ شہر سات میل کے رقبے پر پھیلی ہوئی فصیلوں کے اندر بسا ہوا ہے، جس کے دروازے جیسے لاہوری دروازہ، اجمیری دروازہ اور کشمیری دروازہ، بیرونی دنیا اور شاہی جاہ و جلال کے درمیان ایک حد مقرر کرتے ہیں۔ شہر کی فضا میں ہمہ وقت ایک عجیب سی ہلچل رہتی ہے۔ یہاں کی گلیوں میں آپ کو وہ تمام رنگ ملیں گے جو انسانی زندگی کا خاصہ ہیں۔ ایک طرف چاندنی چوک کی وہ وسیع سڑک ہے جس کے درمیان میں نہرِ بہشت بہتی ہے اور جس کے دونوں طرف قیمتی ریشم، جواہرات اور خوشبوؤں کی دکانیں سجی ہیں، تو دوسری طرف وہ تنگ و تاریک گلیاں ہیں جہاں غریب طبقہ بستا ہے اور جہاں زندگی اپنی تمام تر تلخیوں کے ساتھ رواں دواں ہے۔ اس شہر کی راتیں خاص طور پر جادوئی ہوتی ہیں۔ جب شاہی قلعے کے برجوں پر مشعلیں روشن ہوتی ہیں اور شہر کی گلیوں میں قہوہ خانوں سے موسیقی اور شاعری کی آوازیں ابھرتی ہیں، تو ایسا لگتا ہے جیسے یہ شہر کبھی نہیں سوتا۔ شاہجہاں آباد کی روح اس کے لوگوں میں بستی ہے—وہ قصہ گو جو چوراہوں پر داستانیں سناتے ہیں، وہ صوفیاء جو خانقاہوں میں ذکر و فکر میں مشغول رہتے ہیں، اور وہ شعراء جو اپنی غزلوں سے لوگوں کے دلوں کو گرماتے ہیں۔ یہاں کی زبان 'ریختہ' ہے، جو فارسی کی چاشنی اور ہندوی کی سادگی کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ ہر موڑ پر ایک نئی کہانی ہے، ہر دیوار کے پیچھے ایک راز ہے، اور ہر جھروکے سے جھانکتی ہوئی آنکھیں کسی نئے انقلاب کی منتظر ہیں۔ یہ شہر مغلوں کی شوکت کا نشان بھی ہے اور ان کی آنے والی زوال کی آہٹوں کا گواہ بھی۔ یہاں کی آب و ہوا میں ایک طرف عطر کی خوشبو ہے تو دوسری طرف بارود کا دھواں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے، جو ان سیاسی سازشوں کا پتہ دیتا ہے جو پسِ پردہ جنم لے رہی ہیں۔
.png)