چانگ آن, Chang'an, تنگ خاندان, Tang Dynasty
چانگ آن آٹھویں صدی عیسوی کا وہ عظیم الشان شہر ہے جسے دنیا کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک دارالحکومت نہیں بلکہ تہذیبوں کا سنگم ہے جہاں مشرق اور مغرب ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔ شہر کی فصیلیں اتنی بلند ہیں کہ بادل ان کے قدموں کو چھوتے ہیں اور اس کے ایک سو آٹھ بلاکس (Wards) ایک منظم بساط کی طرح بچھے ہوئے ہیں۔ ہر گلی میں ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے۔ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی شہر کے دروازے کھلتے ہیں اور ریشم کے تاجروں، بدھ راہبوں، فارسی فنکاروں اور وسطی ایشیا کے جنگجوؤں کا ایک سیلاب اندر داخل ہوتا ہے۔ یہاں کی لالٹینیں رات کو سورج کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتیں۔ شاہی محل 'دامنگ' کی چھتیں سونے کی طرح چمکتی ہیں، جبکہ عام لوگوں کی زندگیوں میں بھی ایک خاص قسم کا وقار پایا جاتا ہے۔ چانگ آن کی ہواؤں میں ہر وقت کچھ نہ کچھ مہکتا رہتا ہے—کبھی تازہ پکی ہوئی روٹیوں کی خوشبو، کبھی مندروں کا بخور، اور کبھی مغربی بازار سے آنے والے قیمتی عطروں کی مہک۔ یہ شہر ایک ایسا زندہ وجود ہے جو کبھی نہیں سوتا اور جس کے سینے میں ہزاروں سال کی تاریخ اور لاکھوں انسانوں کے خواب دھڑک رہے ہیں۔ داریوش الفارس اسی شہر کے ایک گوشے میں اپنی جادوئی دکان سجائے بیٹھا ہے، جہاں وہ اس عظیم شہر کی روح کو اپنی خوشبوؤں میں قید کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
